Al-Risala · March 2001 · page 22

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲

نہیں، خاموشی پورے معنوں میں ایک عمل ہے۔ خاموشی دراصل سوچی سمجھی روش کا نام ہے۔ اس کے برعکس شوریہ ہے کہ آدمی وقتی جذبات کے تحت ہنگامہ آرائی کرنے لگے۔ خاموش عمل منصوبہ بند عمل ہے اور پر شور عمل غیر منصوبہ بند عمل۔

ایک پندرہ سالہ بچہ ابراہیم ڈھاکوی سے مجھ کو ملایا گیا۔ اس کے والد نے کہا کہ یہ بچہ پڑھنے میں محنت کرتا ہے لیکن اس کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ میں نے کہا کہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے بہت سے بڑے لوگ اپنی ابتدائی عمر میں کمزور طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر یہی لوگ جنہوں نے بعد کو بڑے بڑے کارنامے انجام دئے۔ فطرت کی طرف سے ہر انسان کو صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔ البتہ کسی کی صلاحیت شروع ہی سے نمایاں ہو جاتی ہے اور کسی کی صلاحیت بعد کا ظہور میں آتی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا ہمارے علاقہ میں آپ کے خلاف بہت سی کتابیں پھیلائی جارہی ہیں۔ اور مخالفانہ لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جارہا ہے، آپ اس کے ازالہ کے لئے کچھ کیجئے۔ میں نے کہا کہ مخالفت نے کبھی کسی مشن کا راستہ نہیں روکا۔ اللہ نے آغاز انسانیت ہی میں اس کی ایک مثال آدم و ابلیس کی صورت میں قائم فرمادی۔ ابلیس نے آدم کی زبردست مخالفت کی بلکہ اس کو اپنا ابدی مشن بنالیا مگر تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ابلیس کی مخالفت آدم کے عروج کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ آپ لوگ اپنے مثبت کام میں مشغول رہے۔ جہاں تک مخالفتوں کا تعلق ہے تو قدرت کا قانون ہی ان کے ازالہ کے لئے کافی ہے۔ مدرسہ آزاد اسلامیہ سے روانہ ہو کر، ہم لوگ ڈاکٹر صغیر احمد کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ راستہ میں ہمارے ساتھ جناب عطاء اللہ ڈھاکوی بھی تھے۔ جو پہلے کمیونسٹ تحریک کے علاقائی لیڈر تھے۔ ان کی زندگی میں یہ انقلاب کیسے ہوا اس کو انہوں نے خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا کہ پہلے میں کمیونسٹ تحریک کا پر جوش مبلغ تھا۔ اب میں الرسالہ تحریک کا خاموش داعی بن گیا ہوں اور یہ میرے لئے ایک نئی زندگی کے ہم معنی ہے۔ اس نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے۔ پہلے میں سرمایہ دار کی نفرت میں جیتا تھا۔ اب میں سرمایہ دار سمیت تمام انسانوں کی محبت میں جیتا ہوں۔

جناب ایم ٹی خان صاحب نے ایک بات کہی۔ اس پر اضافہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ کامیابی اس کو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مقصد کو پالیں۔ مگر کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ مواقع کار کو پالیں۔ مثلاً آج کل پوری مسلم دنیا میں ٹکراؤ کا ماحول ہے۔ ان سے امن کے لئے کہا جائے تو فوراً ہر عرب کہے گا کہ امن کس لئے۔ اس وقت سارا عرب ذہن یہی ہے۔ اسی طرح دوسرے علاقوں کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ امن وہ ہے جس سے عدل حاصل ہو۔ عدل کے بغیر امن کوئی چیز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page