Al-Risala · March 2001 · page 23

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳

یہ بات قانون فطرت کے خلاف ہے۔ قانون فطرت کے مطابق امن مواقع کے حصول کے لئے ہوتا ہے نہ کہ عدل کے حصول کے لئے۔ عدل مواقع کار کو استعمال کرنے سے حاصل ہوتا ہے، وہ امن کے ساتھ بندھا ہوا نہیں آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو اس معاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ کو عدل نہیں ملا بلکہ اس سے پیدا شدہ مواقع کار کو استعمال کرکے آپ نے عدل کو حاصل کیا۔ ۲ نومبر کو دس بجے ہم لوگ جامعہ الامام ابن تیمیہ پہنچے۔ اس ادارہ کی بنیاد ۱۹۶۴ میں رکھی گئی۔ اس جامعہ کو دیکھ کر میرے اوپر ایک عجیب تاثر ہوا۔ میں نے بعض ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھا تھا کہ نیپال کی سرحد کے قریب مسلمانوں نے اپنے تعلیمی ادارے بنائے ہیں جہاں جنگجوئی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ نیپال کی سرحد سے صرف تین کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اور مذکورہ رپورٹوں میں خصوصی طور پر اس کا بھی ذکر تھا۔ میں نے اگر چہ اس سے پہلے ٹی وی انٹرویو میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں۔ اور اگر آپ لوگ مجھ کو ایک امن پسند انسان سمجھتے ہیں تو اسی سے سمجھ لیجئے کہ ہر مدرسہ امن پسندی کی تربیت گاہ ہے۔

آج جب میں نے جامعہ کے کیمپس میں قدم رکھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔ یہ آنسو اس درد کے تحت نکلے تھے کہ ہمارا ملک کتنی بڑی حقیقت سے بے خبر ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ میں مجھے ہر طرف امن، اور انسانی خیر خواہی اور علم دوستی کا ماحول نظر آیا۔ ایسا ادارہ بلا شبہ ملک کے لئے ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے، مگر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے تعمیری اداروں پر بے بنیاد طور پر تخریب کا الزام لگائیں۔ تاہم یہاں آنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مدارس کے بارے میں جس غلط پروپیگنڈے کی تردید میں دیکھے بغیر قیاس کی بنیاد پر کر رہا تھا اب میں خدا کے فضل سے اس کی تردید مشاہدہ کی بنیاد پر کر سکتا ہوں۔ جامعہ میں خواتین کا ایک مدرسہ بھی ہے اس کو بھی دیکھا۔ اس کا ایک الگ اور مستقل کیمپس ہے۔ اس میں دار الاقامہ سے لے کر مسجد تک ہر چیز موجود ہے۔ پچھلے سالوں میں ہندوستان کے مسلمانوں میں خصوصی طور پر یہ رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو پڑھائیں۔ چنانچہ بہت سے مدرسے اور اسکول خواتین کی تعلیم کے لئے قائم ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک روشن علامت ہے۔

جامعہ الامام ابن تیمیہ چندہ ہاڑی پندرہ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کے لئے مجھے کار سے چلنا پڑا۔ اس کے وسیع کیمپس میں چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں زمین کے اوپر ایک اسلامک یونیورسٹی ابھر رہی ہو۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ اس ادارہ کو وہ ادارہ بنائے جو اسلام کی جدید ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔ میں نے یہاں کے اساتذہ کی ایک مجلس میں کہا کہ دعوتی نقطہ نظر سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page