تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴
موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا کام اسلام کو جدید ذہن کے لئے قابل فہم بناناہے دعوت کا کام ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس میں ایک طرف داعی ہوتا ہے اور دوسری طرف مدعو۔ دعوت کے عمل کو درست طور پر انجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ذہن کو سمجھے۔ اس کی زبان اور اس کا اسلوب کلام ایسا ہو جو اس کے مدعو کے لئے قابل فہم ہو، جو مدعو کو سوچنے پر مجبور کر دے۔
2 نومبر کو 9 بجے ڈاکٹر صغیر احمد صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ یہاں تعلیم یافتہ مسلمان اکٹھا ہوئے، ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ میں نے مختلف سوالات کے جواب دئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ انگریزوں کے زمانہ میں مسلمان سرکاری ملازمتوں میں چھ فیصد تھے۔ آج ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔ اور مسلمانوں کی تہذیب کے خلاف طرح طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ پھر ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات جب کسی قوم پر آتے ہیں تو وہ ہمیشہ تاریخ کے اسباب کے تحت آتے ہیں۔ ایسا ہر واقعہ دراصل ایک تاریخی process کی تکمیل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا حل شکایت اور احتجاج نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخ کو ری پاس کرنے کا مسئلہ ہے۔ جو قوم اس قسم کے حادثہ کا شکار ہو اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں ایک نیا عمل (پراسن) جاری کرے، اس مسئلہ کا دوسرا کوئی حل نہیں۔
مولانا ذکاء اللہ عبد القدوس صاحب نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر یہ آیت ہے کہ وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات لَیسْتَخْلِفَنَّہمْ في الارض (النور (۵۵)۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ استخلاف بلاشبہ اللہ کا ایک وعدہ ہے۔ مگر خود آیت بتاتی ہے کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے۔ یعنی جب شرط پوری ہوگی اسی وقت وعدہ کی تکمیل ہوگی۔ آیت کے مطابق یہ شرطیں بنیادی طور پر دو ہیں ـــــ ایمان اور عمل صالح۔ ایمان اور عمل صالح کے بغیر خلافت کے وعدہ کی تکمیل ممکن نہیں۔
اس آیت کے مطابق امت میں اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہو تو لازماً اس کو خلافت حاصل ہوگی۔ اسی طرح اس کے برعکس اگر خلافت موجود نہ ہو تو یہ اس کا لازمی ثبوت ہوگا کہ امت کے اندر مطلوب ایمان اور مطلوب عمل صالح موجود نہیں۔ یہ ایک لازم و ملزوم معاملہ ہے۔ اس لئے اگر ایک چیز موجود نہ ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ دوسری چیز موجود نہیں ہے۔
11 بجے جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے ہال میں طلبہ و اساتذہ کو خطاب کیا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ قرب وجوار کے لوگ بھی کافی تعداد میں شریک تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں دو چیزوں کی اہمیت بتائی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues