تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵
ایک علم اور دوسری دعا۔ علم کے ذریعہ آدمی صاحب شعور بنتا ہے اور دعا کے ذریعہ وہ اس بر تر طاقت کی نصرت حاصل کرتا ہے جو اس کو ہر جگہ کامیاب کرنے والی ہے۔
میں نے کہا کہ امام ابن تیمیہ سے میں نے ذاتی طور پر یہ دونوں چیزیں سیکھی ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کے سلسلہ میں ان کو اشکال پیش آتا تو وہ تنہائی میں چلے جاتے اور وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھتے اور سجدہ میں سر رکھ کر کہتے: یا معلم ابراهیم علمنی (اے ابراہیم کے معلم، مجھے بھی علم دے دے) یہ دعا کوئی سادہ دعا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا قاری اس کے مصنف سے ہر لمحہ کنسلٹ کرسکتاہے خواہ یہ قاری کسی بھی مقام پر اور کسی بھی زمانہ میں ہو۔ یہ ایک ایسی خوش قسمتی ہے جو قرآن کے قاری کے سوا کسی اور کتاب کے قاری کو حاصل نہیں۔ میں نے اللہ کے فضل سے ابن تیمیہ کے اس طریقہ کو اپنا مستقل طریقہ بنالیا۔ اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ ابن تیمیہ کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کی چیزیں کثرت سے پڑھتے تھے۔ چنانچہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ بن گئیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اللہ کی توفیق سے ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنی تقریباً پوری زندگی مختلف قسم کے علوم کے مطالعہ میں گزار دی۔ یہ مطالعہ میرے لئے بے حد مفید ثابت ہوا۔ اگر آپ کا مطالعہ محدود ہو تو آپ مسائل کی پوری نوعیت کو نہیں سمجھ سکتے۔ اور نہ اس کا گہرا تجزیہ کر سکتے۔ اس لئے آپ کو چاہئے کہ مطالعہ کو زیادہ سے زیادہ بڑھائیں۔ نیز یہ کہ ہر قسم کی چیزیں پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے بغیر انسان کی شخصیت ادھوری رہتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس تحمل اور ایڈ جسٹمنٹ کی تلقین کرتے ہیں وہ ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جب آپ اس طریقِ عمل کو ملی زندگی میں اختیار کرنے کے لئے کہتے ہیں تو یہی لوگ آپ کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ جس حکمت کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں جانتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ملی زندگی کے معاملات میں وہ اس سے بے خبر ہیں۔
میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملات میں وہ اپنی جبلت (instinct) کے تحت عمل کرتے ہیں۔ لیکن ملی زندگی میں معاملہ شعور کا ہو جاتا ہے جہاں ان کو اپنے شعور کے تحت بالقصد کام کرنا ہے۔ مگر مسلم سماج اور مسلم اداروں نے ان کے اندر یہ شعور زندہ نہیں کیا۔ اس لئے وہ اس کو اجنبی سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ اس معاملہ میں ان کے شعور کو جگائیں ۔ شعوری بیداری کے بعد اپنے آپ ان کا یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔
بتایا کہ جناب حیدر علی صاحب (۶۰ سال) اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ چند پروگرام میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues