Al-Risala · March 2001 · page 26

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶

شرکت کے بعد میں نے ان سے اس سفر کا تاثر پوچھا۔ انہوں نے اپنے الفاظ میں اپنا تاثر اس طرح ظاہر کیا: میں نے یہ جانا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ مجھے جو بھی بات کرنا چاہئے اپنے دین کے حوالہ سے کرنا چاہئے۔ اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کرنا چاہئے۔ اور میں نے پایا کہ ذکر میں جو لذت ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ اور ان باتوں کو میں نے الرسالہ کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔

جناب حیدر علی صاحب نے کہا کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ مسلمانوں نے ہندوستان کو تاج محل کی خوبصورتی، قطب مینار کی اونچائی اور لال قلعہ کی عظمت دی۔ مسلمانوں کی ان فخریه باتوں سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو کیوں؟ ۔ مسلمانوں نے یہ نمایاں کام کئے ہیں۔ اس پر فخر کرنے میں کیا برائی ہے۔

میں نے کہا کہ جو مسلمان ایسی بات کرتے ہیں ان کو سوچنے کا ایک ہی ڈھنگ معلوم ہے اور وہ قومی ڈھنگ ہے۔ دعوتی سوچ کیا ہوتی ہے اس کی ان کو خبر نہیں۔ قوم پرست انسان اپنی بڑائی میں جیتا ہے اس لئے وہ اپنی بڑائی کو ثابت کر کے خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس داعی کامعابلہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کی خیر خواہی میں جیتا ہے اس کی سوچ خیر خواہانہ سوچ ہوتی ہے، یہی سوچ اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کرے جو مدعو کو اس سے دور کرنے والی ہو۔ میں نے کہا کہ کچھ علوم وہ ہیں جو خیر خواہی کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ان علوم کو وہی حاصل کر سکتا ہے جس نے خیر خواہی کی درسگاہ میں تعلیم حاصل کی ہو، ورنہ وہ ان علوم سے بے بہرہ رہے گا۔

سوڑھنی کے محمد مطلوب عالم مطلوب (۳۸ سال) مرکز تعمیر انسانیت کے نائب صدر ہیں۔ اس کے صدر، جلال الدین سلمی ہیں، جناب ماسٹر اکرام الدین صاحب اس ادارہ کے سکریٹری ہیں، جناب محمد نظام الدین ضیعی اس کے ناظم ہیں۔ یہ لوگ الرسالہ مشن سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔ جناب محمد مطلوب عالم مطلوب نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: "میں جب مولانا صاحب کی کتاب کا مطالعہ کرتا تھا تو میری یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان سے ملوں۔ یکم نومبر کی صبح کو پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر پہلی بار مولانا صاحب کو دیکھا تو اچانک میری آنکھوں سے آنسو امل پڑے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح ان کی کتابوں میں ایسی چیز ملتی تھی جس کو پہلے میں نے کہیں اور نہیں پڑھا تھا اسی طرح ان کو دیکھ کر یہ محسوس ہوا کہ میں ایک ایسا چہرہ دیکھ رہا ہوں جیسا چہرہ میں نے پہلے کہیں اور نہیں دیکھا تھا۔ سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ مولانا صاحب اپنا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ وہ اپنے ہر لمحہ کا استعمال انسانیت کو پیغام پہنچانے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ دو روز جو میں نے مولانا کے ساتھ گزارے ہیں وہ میری زندگی کے قیمتی لمحات تھے"۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page