Al-Risala · March 2001 · page 27

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷

۲ نومبر کی شام کو ہم لوگ موتی ہاری پہنچے۔ ہم لوگوں کا پہلا پڑاؤ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کی رہائش گاہ پر تھا۔ اپنی زندگی کے حالات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اسکول کا کام ۱۹۲۵ء میں شروع کیا۔ اس وقت یہاں ایک روپے میں ایک من دھان ملتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آج یہاں ایک من دھان کی قیمت کیا ہے۔ انہوں نے کہا آج یہاں ایک من دھان کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ دینی اورملی ادارہ بنانا ۱۹۲۵ء میں زیادہ آسان تھا یا آج زیادہ آسان ہے۔ پھر میں نے کہا کہ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کام پہلے کے مقابلہ میں آج زیادہ آسان ہے۔ چنانچہ آج نہ صرف بہار میں بلکہ سارے ملک میں پہلے سے سو گنا زیادہ دینی اور تعلیمی ادارے قائم ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ ماضی اور حال کے اس فرق پر غور کیجئے تو اس سے بہت بڑا سبق معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معاشی مسائل یا زمانی تبدیلیاں دین کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں اور زمانے میں خواہ کتنی ہی تبدیلیاں آجائیں، مگر دین اور ملت کا قافلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا، قیامت سے پہلے اس کے تیز رفتار سفر کو کوئی روکنے والا نہیں۔

مسٹر ارشد شعیب ہاشمی (۳۰ سال) ایک انجینئر ہیں۔ وہ سروس نہیں کرتے۔ وہ خود اپنی فرم چلا رہے ہیں۔ ان سے میری ملاقات ڈاکٹر ایم اے رحمن کے مکان پر ہوئی۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی خاص تجربہ بتائیے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد پہلے میں نے اپنی قوم میں کام شروع کیا۔ مگر مجھے نہایت تلخ تجربہ ہوئے۔ اپنے لوگوں کے درمیان کام کرتے ہوئے گھاٹا بھی اٹھانا پڑا۔ اور باتیں بھی سننی پڑیں۔ آخر کار میں نے اپنے کام کا میدان بدل دیا۔ وہ ایک آرلکٹ ہیں۔ وہ بلڈنگ کا نقشہ بھی بناتے ہیں اور تعمیر بھی کراتے ہیں۔ اب وہ زیادہ تر ہندوؤں میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں مجھے بالکل مختلف قسم کا تجربہ ہو رہا ہے۔ یہاں میرے کام کی قدر ہوتی ہے۔ یہ لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں۔ مالی لین دین میں وہ قابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں۔ مسٹر ارشد شعیب ہاشمی نے کہا کہ ہماری قوم میں ایک عام کمزوری یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو لیڈر سمجھتا ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

مولانا عبدالرحیم امدادی صاحب نے اس علاقہ میں مسلسل دورہ کر کے یہاں الرسالہ مشن کا ماحول بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس وسائل کے نام سے کوئی چیز نہ تھی۔ اس کے باوجود میں دیوانہ وار الرسالة کے لئے گھومتا رہا۔ نہ صرف بھوک پیاس کو بلکہ ہر قسم کی تکلیفوں کو مجھے سہنا پڑا۔ آخر کار ایک وقت آیا جب کہ میرے لئے دروازے کھل گئے اور پورے علاقہ میں ساتھیوں اور مددگاروں کی ایک فوج مجھے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page