تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو اصل کمی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے درمیان تھنکنگ پراسس (thinking process) رک گیا ہے۔ آج مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ ان کے پاس پٹرول کی صورت میں دولت کے خزانے ہیں۔ تقریبا ساٹھ ملکوں میں ان کا سیاسی اقتدار قائم ہے، وغیرہ وغیرہ اس کے باوجود وہ ساری دنیا میں بے قیمت ہورہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں سب کچھ ہے مگر ایک بنیادی چیز ان کے درمیان مفقود ہو گئی ہے۔ اور وہ ہے سوچنے کا عمل (تھنکنگ پراسس)۔ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی کے جلسہ کے بعد اخبار کے کئی نمائندے آگئے۔ انہوں نے انٹرویو لیا۔ ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ میں نے کہا کہ میرا تعلق امت مسلمہ سے ہے۔ پوری امت مسلمہ میری جماعت ہے۔ مذکورہ اخبار نویس نے کچھ دیر کے بعد میرے کہنے پر اپنے لکھے ہوئے کو دہرایا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے میرا جواب اس طرح لکھا تھا: میں پوری امت مسلمہ کا رہبر ہوں۔ میں ان کے اس لکھنے پر سخت حیران ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی غلط رپورٹنگ ہی موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں نے آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ میرا تعلق پوری امت مسلمہ سے ہے۔ اور آپ نے اس کو ان الفاظ میں لکھا کہ میں پوری امت مسلمہ کا رہبر ہوں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخبار کی رپورٹنگ میں کس طرح بات بدل جاتی ہے۔
ایک اخباری نمائندہ نے سوال کیا کہ آپ کے بارے میں طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ آر ایس ایس کے آدمی ہیں۔ ان الزامات کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے الزامات صرف مجھ سے خاص نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی آدمی کام کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو لوگ اس کو اسی طرح اپنے الزامات کا شکار بناتے ہیں۔ مثلاً سر سید، اقبال، مولانا حسین احمد مدنی، ابو الکلام آزاد، مولانا علی میاں، وغیرہ۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اس قسم کے الزامات سے بچا ہوا نہیں، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت جو ایک بے ضرر جماعت ہے اس پر بھی بڑے بڑے الزامات لگائے گئے۔ مثلاً یہ کہ وہ سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں، وہ مسلمانوں کو عمل کے میدان سے ہٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں میں غلط دین پھیلا رہے ہیں، وغیرہ۔
محمد ثناء اللہ ندوی شریک سفر تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے الرسالہ کی تحریریں پڑھی ہیں اور اب صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر میں نکلے ہیں اس بارہ میں اپنا تاثر بتائیے۔ ان کا جواب ان الفاظ میں تھا: ”میں نے بہت سارے مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن مولانا وحید الدین کی تصانیف، ان کا الرساله، بالخصوص ان کی چند روزہ صحبت نے میرے اندرون میں، میری فکر میں اور میرے جذبہ دعوت میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues