تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۰
انقلاب پیدا کر دیا۔ میں مولانا کو اس دور کا عظیم مفکر، حقیقی داعی، خادم قوم و ملت مانتا ہوں اور ان کے مشن سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔ “ جناب ایم ٹی خان (۵۲ سال) بہار کے سفر میں ساتھ تھے۔ سفر کے بارے میں ان کے تاثرات دریافت کئے گئے تو ان کا جواب ان الفاظ میں تھا: ”مولانا سے ملنے اور سننے کے بعد ہم لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی میں بہتری لانے کے لئے مولانا کی کتابوں کو پڑھنا اور زندگی میں اصلاح کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ الرسالہ مشن ہی سے ان کو تعمیری حل مل سکتا ہے۔ کئی لوگ جو سننے سے پہلے سخت تنقیدی انداز اختیار کئے ہوئے تھے، سننے کے بعد ان کا وہ انداز باقی نہ رہا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر کرنے کے بعد میرا ایک احساس یہ ہوا کہ اس مشن کی گہرائی کو صرف کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی سمجھ سکتے ہیں، عوام نہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ اختیار کر سکتے ہیں“۔ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی میں جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک سینئر وکیل مسٹر اے ایم کیفی تھے۔ انہوں نے تقریر سننے کے بعد ایم ٹی خان سے کہا: ”مجھے مولانا کے بارے میں صرف اخبار میں کنٹرولور شیل آرٹیکل پڑھنے کو ملے تھے لیکن اب سننے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ مولانا تو صرف صحت مند فکر اور مثبت سوچ کی بات کرتے ہیں۔ “ جناب ایم ٹی خان صاحب کے متعلق مشہور ہے کہ ان کو غصہ نہیں آتا۔ ان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ غصہ کی صفت ان کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک تکنیک دریافت کی ہے اور جب بھی کسی کی کوئی ایسی بات سامنے آتی ہے جو غصہ دلانے والی ہو تو میں اس تکنیک کو استعمال کر کے اپنے آپ کو غصہ سے بچا لیتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تکنیک یہ ہے کہ جب دوسرا شخص غصہ میں آکر اشتعال انگیز بات کرتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ میں اس کی سطح پر کیوں جاؤں۔ یہ احساس مجھے اپنی سطح کو برقرار رکھنے میں مددگار بن جاتا ہے۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ زندگی ایک امتحان ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے سوال کیا کہ یہ مشکل امتحان ہے یا آسان امتحان۔ انہوں نے کہا کہ بہت مشکل امتحان ہے۔ میں نے کہا آپ نے ٹھیک کہا۔ زندگی بلاشبہ ایک سخت مشکل امتحان ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے کسی حد بندی کے بغیر جینا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ میرے اوپر کوئی پابندی نہ ہو، میں جو چاہوں کروں اور جو چاہوں نہ کروں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ایک چیز اس کی خواہش کے خلاف ہمیشہ روک بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو ایک ایسی دنیا میں جینا پڑتا ہے جس کے خود اپنے مستقل قوانین ہیں۔ انسان ان قوانین کو بدل نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues