تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶
صرف ایک آدمی کی تقریر سننے کے لئے ہندو اور مسلمان دونوں ہزاروں کی تعداد میں ٹوٹ پڑتے تھے اور لوگوں کا بیان یہ ہے کہ آپ کی تقریر کے پورے دوران لوگوں کا وہ حال ہوتا تھا جس کو اردو میں سانس روک کر سننا اور انگریزی میں پن ڈراپ سائلنس (pindrop silence) کہا جاتا ہے۔ سیاسی لیڈروں کی تقریروں میں بھی بھیڑ ہوتی ہے مگر وہ شور و غل کی بھیڑ ہوتی ہے، جب کہ میری تقریر کے دوران پورے مجمع پر انتہائی خاموشی کا عالم چھایا رہتا تھا۔ مقرر کی آواز کے سوا کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ۳ نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ بتایا کی جنگی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ وسیع مسجد مکمل طور پر بھری ہوئی تھی ۔ یہاں جمعہ سے پہلے آدھ گھنٹہ میں نے خطاب کیا۔ اس خطاب کے لئے میں نے ایک حدیث کا انتخاب کیا۔ وہ یہ کہ المساجد بیوت المتقین (مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں)۔ میں نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد کے اعمال ان صفات کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ اذان سے لے کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تک، اور باجماعت نماز کی ادائیگی تک نماز کا ہر جزء حقتیانہ زندگی کی تیاری ہے۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا علی احمد ندوی (۸۲ سال) کی رہائش گاہ پر ہم لوگ اکٹھا ہوئے۔ دوپہر کا کھانا یہیں کھایا گیا ۔
مولانا علی احمد ندوی ۱۹۳۹ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے قدیم ندوہ کو دیکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ۱۹۳۹ کے ندوہ اور آج کے ندوہ میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ندوہ میں تقریباً ۵۰۰ طلباک کی تعداد ہوتی تھی۔ عمارتیں بھی بہت کم تھیں۔ لیکن اب میں جب ندوہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ ترقی ہو چکی ہے۔ اب طلبا کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔ کثرت سے عمارتیں بن گئی ہیں۔ بہت سے نئے نئے شعبے کھل گئے ہیں جو شاندار عمارتوں میں قائم ہیں۔ قدیم ندوہ کے مقابلہ میں آج کا ندوہ کم از کم دس گنا زیادہ ترقی کر چکا ہے۔
میں نے سوچا کہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں کے تمام لکھنے والے اور بولنے والے ایک ہی پیغام مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ اور وہ یہ کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے دوسرا اسپین بنایا جارہا ہے، یہاں ان کی شناخت مٹائی جارہی ہے، وغیرہ۔ مگر عملاً صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے اس وقت کے لیڈروں نے مسلمانوں کو یہ خبر دی تھی کہ غیر منقسم ہندوستان میں ان کا کوئی مستقبل نہ ہو گا۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ تقسیم کے باوجود ہندوستان کے مسلمان تقریبا ہر اعتبار سے پاکستان سے زیادہ بہتر ہیں حتی کہ مسجد اور مدرسہ کے اعتبار سے بھی۔
بتایا میں جناب شاہد جلیل بخشی (۴۰ سال) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا وطن بہار شریف ہے۔ وہ اس حادثہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues