Al-Risala · March 2001 · page 37

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

کے وقت، وہیں تھے جو بہار شریف میں ۹ / اکتوبر ۲۰۰۰ کو ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار شریف (امیر محلہ) میں صغری اسٹیٹ وقف کی خالی زمین ہے۔ اس زمین پر قبضہ کرنے کے لئے کچھ ہنووؤں نے یہ تدبیر کی کہ ۸ اکتوبر اور ۱۹ اکتوبر کی درمیانی شب کو درگاہ دیوی کی ایک مورتی سنگ مرمر کی بنی ہوئی لائے تاکہ وہاں نصب کریں۔ منصوبہ کا علم مسلمانوں کو ہو گیا تھا، مسلمانوں نے یہ نہیں کیا کہ اس مقام پر جاکر خود سے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ کیا کہ ضلع انتظامیہ کے افسران اعلیٰ سے مل کر ان سے کہا کہ یہاں ناجائز قبضہ کیا جارہا ہے، آپ لوگ اس کوروکیں ضلع انتظامیہ نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مورتی وہاں نصب ہو گئی۔ مقامی مسلمانوں نے اس اشتعال انگیز کارروائی کے باوجود خود کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ مقامی ایم ایل اے کے ذریعہ لالو یادو اوررابڑی دیوی سے ربط قائم کیا اور ملاقات کر کے ان سے ساری صورت حال بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی، اس ہدایت کے باوجود مورتی اپنی جگہ باقی رہی اور چہار دیواری بننے لگی۔ مسلمان اب بھی مشتعل نہیں ہوئے بلکہ رابڑی دیوی چیف منسٹر سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چیف منسٹر اور لالو یاد او ر دیگر ذمہ داران نے مذکورہ مقام کا خود دورہ کیا اور وہاں جاکر اس کو آنکھوں سے دیکھا اور سخت آرڈر کرتے ہوئے فوری طور پر اپنی موجودگی میں مورتی کو ہٹایا اور دیوار منہدم کرا دی۔ ایک واقعہ جس پر پورا بہار شریف تباہ کن فساد کا شکار ہو سکتا تھاوہ پرامن طور پر ٹل گیا۔ جناب جمیل احمد (۶۵ سال) نے جو بہار شریف کے رہنے والے ہیں اور آج کل بتیا میں مقیم ہیں اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کی صبر والی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بہار شریف کے مسلمانوں نے اپنے کو محفوظ کر لیا۔

۳ نومبر کو بتیا میں جناب اسلم احمد صاحب (42سال)کے کے مکان پر دوپہر کا کھانا کھلایا گیا۔ انہوں نے اپنے بہت سے تجربے بتائے۔ وہ سروس کرتے ہیں۔ اس لئے ان کا ملنا جلنا (انٹر ایکشن) بار بار ہندوؤں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے ہندو جو شروع میں اسلام کے خلاف سخت رائے رکھتے تھے۔ ان سے انہوں نے سنجیدہ انداز میں گفتگو کی اور اسلامی مرکز کی شائع شدہ ہندی اور انگریزی لٹریچر پڑھنے کو دیا۔ اس کے بعد ہندوؤں کا ذہن اللہ کے فضل سے بدل گیا۔ ایک برہمن مسٹر د نے کمار کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلے ان کے اندر اسلام کے بارے میں منفی ذہن تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ان میں اور ان کے گھر والوں میں اسلام کے بارے میں مثبت ذہن پیدا ہو گیا ہے۔ وہ لوگ اسلامی کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں اور اسلام کے کلمات مثلاً الحمد للہ، فی امان اللہ، بسم اللہ الرحمن الرحیم وغیرہ بولتے ہیں۔ پہلے اسلام کے بارے میں ان کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page