تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
ذهن سخت تھا۔ اور اب ان کے دل میں اسلام کے بارے میں نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو گیا۔ جناب جمیل احمد صاحب سے بتیا میں ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان اگر اپنی زندگی میں صبر و شکر کا انداز اختیار کرے تو وہ کبھی نا کام نہ ہو۔ کیوں کہ صبر و شکر کا ذہن ناکامی کو بھی کامیابی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ جن باتوں کی تعلیم دیتا ہے، ان کا خلاصہ میرے نزدیک تین ہے۔ صبر، شکر اور اعراض۔ میرا یقین ہے کہ اگر انسان یہ تینوں چیزیں اپنی زندگی میں داخل کر لے تو اس کی دنیا اور آخرت دونوں بن جائے۔ یہ تین نکاتی فارمولا انسان کی کامیابی کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ ہے۔ ایک صاحب نے ایک فرقہ وارانہ واقعہ کا ذکر کیا۔ اس میں ہندو اور مسلمان کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا تھا، پولیس نے مداخلت کی۔ اور آخر کار ساڑھے تین سو ہندو گرفتار کر لئے گئے۔ ان کے بیان کے مطابق وہ لوگ اب بھی پولیس کسٹڈی میں ہیں۔ یہ سن کر میں رو پڑا۔ ایک صاحب نے رونے کا سبب دریافت کیا۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو خوشی کے انداز میں لینا سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ ہمارے اندر انسانیت کا وہ درد ہونا چاہئے کہ اگر ساڑھے تین سو مسلمان گرفتار ہو کر بند کر دئے جائیں تو جتنا درد ہم کو اس وقت ہو گا اتنا ہی درد اس وقت بھی ہونا چاہئے جب کہ ساڑھے تین سو ہندو گرفتار کر کے بند کر دیئے گئے ہوں۔ مسلمان کی پیٹھ اور ہندو کی پیٹھ میں کوئی فرق نہیں۔ کوزہ کھولہ کسی کی پیٹھ پر لگے آپ کو تڑپنا چاہئے۔ جناب ایم ٹی خان صاحب نے ایک واقعہ بتایا کہ پٹنہ میں ایک صاحب فیروز احمد ہیں۔ وہ الرسالہ کی مخالفت کرتے تھے۔ ایم ٹی خان صاحب نے ان سے کوئی بحث نہیں کی۔ صرف یہ کیا کہ ایک موقع پر ان کو الرسالہ مطبوعات میں سے ایک کتاب پڑھنے کو دے دی۔ چند دن کے بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے الرسالہ کے بارے میں سنا کچھ اور تھا اور پڑھنے کو کچھ اور ملا۔ ۳ نومبر کی سہ پہر کو ہم لوگ امداد امام صاحب کے گھر پر گئے۔ یہاں قارئین الرسالہ کی میٹنگ رکھی گئی تھی۔ جناب سید ہاشم رضا صاحب (۶۵ سال) بتیا کے رہنے والے ہیں۔ وہ ۱۹۸۶ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب حالات میں کافی سدھار ہوا ہے مگر ایک مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کوئی قیادت نہیں۔ مسلمان خانہ خانہ میں بٹا ہوا ہے۔ ان کا کوئی مسلمہ قائد نہیں۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کا مسئلہ فقدان قیادت کا نہیں ہے بلکہ ان کا مسئلہ فقدان قبولیتِ قیادت کا ہے۔ قائد ہمیشہ ہر قوم میں موجود رہتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ لیکن جس قائد کو لوگ قائد مان لیں وہ ان کا قائد بنے گا اور اگر وہ اس کو قائد نہ مانیں تو اس کو قائد کا درجہ بھی نہیں مل سکتا۔ پرانی مثل ہے : مانو دیو نہیں تو پتھر۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues