تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا مزاج منفی جذباتیت والا مزاج بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے افراد کے پیچھے دوڑتے ہیں جو منفی بولی بولیں، جو ہائی پروفائل میں کلام کریں اور جو شخص مثبت بولی بولے اور لو پروفائل میں کلام کرے وہ ان کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔ قیادت کو وجود میں لانے کے لئے سب سے پہلے قوم کے اندر تعمیری مزاج پیدا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ان کے درمیان کوئی حقیقی قیادت ابھر سکتی ہے۔
جناب نجم الہدیٰ صاحب (۳۵ سال) سے بتیا میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الرسالہ کے بارہ میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ میں صبر و اعراض کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے، مجھ کو اس سے اتفاق ہے، خصوصاً ہندوستان جیسے ملک میں تو اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ مجھ کو اس سے اتفاق نہیں۔ صبر و اعراض کوئی مجبوری کا فارمولا نہیں ہے۔ وہ فطرت کا فارمولا ہے۔ آپ کو ہر جگہ صبر و اعراض ہی کے ساتھ رہنا ہے۔ خواہ وہ ہندوستان ہو یا اور کوئی مسلم یا غیر مسلم ملک۔
۳ نومبر کی شام کو بتیا کے ٹاؤن ہال میں عمومی جلسہ ہوا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ اسٹیج پر شہر کی بڑی بڑی شخصیتیں موجود تھیں۔ مثلاً محترمہ رینو دیوی ایم ایل اے، جناب ڈی آئی جی صاحب، جناب ڈی ایم صاحب اور جناب ایس پی صاحب وغیرہ میں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک خطاب کیا۔ پورا مجمع انتہائی خاموشی کے ساتھ سنتا رہا۔
اس تقریر کا مکمل ریکارڈ بتیا والوں کے پاس موجود ہے۔ اور اس کی کاپی ان سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام نفرت اور تشدد کا مذہب نہیں، اسلام امن اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ خدا کے ہر بندے کو ہمیں محبت کی نظر سے دیکھنا ہے۔ جس طرح پھول خدا کی ایک تخلیق ہے اسی طرح انسان بھی خدا کی ایک تخلیق ہے پھول خواہ میرے باغ میں ہو یا کسی اور کے باغ میں ہر حال میں وہ قابلِ تعریف ہے۔ اسی طرح کوئی انسان خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا کسی دوسری قوم سے، ہر حال میں وہ اس قابل ہے کہ اس سے انسانی ہمدردی کی جائے۔ جس طرح پھول میں آپ خدا کا حسن دیکھتے ہیں اسی طرح آپ کو ایک انسان میں خدا کا تخلیقی جلوہ دیکھنا چاہئے۔ اگر آپ کے دل میں انسان کے لئے عزت اور ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کے ساتھ بھی آپ کا سچا تعلق قائم نہیں۔ بتیا کے اس جلسہ کے صدر جناب ڈی آئی جی صاحب تھے۔ تقریر کے بعد انہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ اگر کسی صاحب کو تقریر کے سلسلہ میں کوئی سوال کرنا ہو تو وہ سوال کر سکتے ہیں۔ ڈی آئی جی صاحب نے یہ بات لاؤڈ اسپیکر پر تین بار کہی۔ مگر پانچ منٹ تک انتظار کے باوجود کسی طرف سے کوئی سوال
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues