تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵
نمازِ فجر کے بعد مجھ سے درس کے لئے کہا گیا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تذکیری انداز کا خطاب کیا۔ ایک آیت اور ایک حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام نہ تو کوئی پراسرار دین ہے اور نہ کوئی رسمی اور نسلی دین۔ اسلام اللہ کی ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے کھولی ہے۔ حقیقی معنوں میں مومن و مسلم وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی عظیم نعمت کے طور پر پائے جس سے اس کی روح سرشار ہو گئی ہو۔
جناب مولانا محمد بدر الحق قاسمی (۲۵ سال) صدر مدرس تعلیم القرآن سے سبیا میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الرسالہ کے سلسلہ میں اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا "الرسالہ پڑھ کر مجھے ایک شعوری زندگی گزارنے کا احساس ہوا۔ اس لئے کہ شعور ہی کے ذریعہ انسان اپنے کمال تک پہنچتا ہے۔ ۵ نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن سبیا دیوراج کو دیکھا۔ یہاں مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ پر مشتمل ایک اجتماع ہوا۔ بچے زیادہ تر چھوٹی عمر کے تھے۔ جب میں نے ان چھوٹے بچوں کو دیکھا تو مجھے ستر سال پہلے ۱۹۳۰ء کا اپنا زمانہ یاد آیا۔ اس وقت میں اسی طرح ایک بچے کی صورت میں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں پڑھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر ان کی تعلیم کے لئے مدرسہ چلانا کتنا بڑا کام ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر بہت چھوٹا کام نظر آتا ہے۔
ان چھوٹے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یہ ان کے بڑے ہیں جن کو ان کے مستقبل کے بارے میں سوچنا اور فیصلہ کرنا ہے۔ بچوں کا بے خبری کی عمر میں ہونا باخبری کی عمر والے بڑوں کی ذمہ داری میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ بچے خود اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ نہیں سکتے۔ یہ ان کے بڑوں کے لئے دوہر اکام ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیں اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی۔
مدرسہ کا پروگرام شروع ہوا تو پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ ایک طالب علم نے قرآن کا ایک رکوع پڑھا: وننزل من القران ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين۔ اس تلاوت کے بعد ایک طالب علم نے نعت پڑھی اس کا ایک شعر یہ تھا:
لگاؤں میں آنکھوں میں سرمہ سمجھ کر جو مل جائے مجھ کو غبار مدینہ مدرسہ تعلیم القرآن میں تقریر کے بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے وہ انگریزی اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون لئے ہوئے تھے جس میں کسی انتہاء پسند ہندو نے لکھا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں سیکنڈ کلاس سٹیزن بن کر رہنا ہوگا ورنہ ان کی حالت اس ملک میں درست نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues