Al-Risala · March 2001 · page 46

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶

تعلق ہے وہ بلاشبہ پر امن طور پر پھیلا ہے، اور آج بھی وہ ساری دنیا میں پرامن طور پر پھیل رہا ہے۔ اسلام مکمل طور پر ایک فطری مذہب ہے۔ اور سچا فطری مذہب اپنے آپ میں اتاپر کشش ہوتا ہے کہ اس کی اشاعت کے لئے کسی جبر و تشدد کے استعمال کی ضرورت نہیں۔

جناب امداد امام صاحب بتیا سے میں نے پوچھا کہ الرسالہ کے تعلق سے آپ کوئی خاص واقعہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 1991 کا واقعہ ہے، میں سیوان سے حاجی پور ہوتے ہوئے بذریعہ ٹرین پٹنہ جارہا تھا۔ میرے ساتھ میری بیوی اور میرا بیس سالہ بھتیجہ افروز امام تھا۔ افروز امام اس وقت بیمار حالت میں تھا۔ سیوان سے ہم لوگوں کو ویشالی ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہونا تھا۔ ٹکٹ لے کر ہم لوگ بوگی میں داخل ہوئے تو اس کی تمام سیٹوں پر لوگ پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے ہم لوگ اندر داخل ہو کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے چاہا کہ کم از کم میرے بیمار بھتیجے کو بیٹھنے کی جگہ مل جائے۔ میں نے سیٹ کے کنارے بیٹھے ہوئے مسافر سے کہا کہ یہ بچہ بیمار ہے بیٹھنے کی جگہ دے دیں۔ ہندو مسافر نے میری بات کو ذرا بھی قابل توجہ نہ سمجھا۔ اس نے نہایت بے رخی سے کہا کہ کیا میں آپ کو اپنے سر پر بٹھا ؤں میں نے کئی بار اس مسافر سے جگہ دینے کو کہا مگر اس کی شدت میں کمی نہ آئی۔ ابھی ٹرین اسٹیشن پر کھڑی ہوئی تھی، اس دوران ایسا ہوا کہ مذکورہ مسافر نے پلیٹ فارم کے ایک خوانچہ فروش "چائے والے" سے چائے لی، پینے کے بعد چائے والے نے پیسہ مانگا جو دو روپیہ ہوتا تھا۔ مسافر نے اپنی جیب سے دو روپیہ نکالا اور چائے والے کو دینا چاہا مگر سکہ چھوٹ کر گر پڑا اور کھڑی ہوئی گاڑی کے نیچے چلاگیا۔ مسافر کے پاس مزید کھلے ہوئے سکے نہ تھے۔ اس نے سو روپیہ کا نوٹ نکالا مگر چائے فروش نے اس کو لینے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں تم کو لوٹاؤں۔

اب مسافر میں اور چائے والے میں تکرار ہو گئی۔ شدت بڑھی تو میں نے خاموشی کے ساتھ جیب سے دو روپیہ نکالا اور چائے والے کو دے دیا، مسافر نے کہا کہ میرے پاس کھلا ہوا پیسہ کہاں ہے جو میں آپ کو لوٹاؤں گا۔ میں نے کہا کہ میرا مقصد تو اس جھنجھٹ کو ختم کرنا تھا۔ باقی آپ کو پیسہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

اس کے بعد ایک معجزاتی واقعہ ہوا جو مجھے اب تک پوری طرح یاد ہے۔ ہندو مسافر تھوڑی دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد خود ہی اس نے پاس بیٹھے ہوئے اپنے لڑکے سے کہا کہ اٹھو، اوپر کا سامان اتار کر سیٹ کے نیچے رکھ دو اور تم اوپر چلے جاؤ۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ بابو جی یہاں بیٹھ جائیے اس طرح اس نے جگہ خالی کر کے مجھ نے بیٹھنے کے لئے کہا۔ میں نے کہا کہ میں تو کھڑا رہوں گا آپ لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page