Al-Risala · March 2001 · page 47

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷

اطمینان سے بیٹھے۔ مگر وہ خود کھڑا ہو گیا اور کہا کہ ہم کو تو صرف اگلے اسٹاپ تک جانا ہے۔ آپ دونوں صاحبان اطمینان کے ساتھ یہاں بیٹھ جائیں۔

میں نے سوچا کہ مذکورہ ہندو مسافر میں اتنا فرق کیوں آیا۔ وہ چند منٹوں میں کیسے بدل گیا۔ اس کا سبب یہ ہے اس نے پہلے جناب امداد امام صاحب کو اپنا حریف سمجھا تھا مگر ان کا اخلاق دیکھنے کے بعد اس نے انہیں دوست کے روپ میں دریافت کر لیا۔ کیوں کہ پیسہ دینے سے پہلے امداد امام صاحب اس کو ’’چھیننے والے‘‘ کے روپ میں دکھائی دے رہے تھے مگر بعد کو وہ اسے دینے والے کے روپ میں نظر آنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کی کوئی تصویر آخری تصویر نہیں۔ حسن تدبیر سے آپ کل کے دشمن کو اپنا آج کا دوست بنا سکتے ہیں۔

بہار کا سفر پورے ایک ہفتہ کے لئے تھا۔ اس دوران میں تقریباً ڈیڑھ درجن مقامات پر گیا۔ ہر جگہ لوگ میری تقریر اور گفتگو سننے کے لئے طوفان کی طرح امڈ پڑے۔ مولانا عبد الرحیم امدادی نے ہماری کتابوں کا اسٹال لگایا تھا۔ امدادی صاحب نے کہا کہ ہر جگہ لوگ پیسہ دے کر کتابوں کو لوٹ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ محبت کی حد تک میرے گرویدہ ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی بار میں اپنی عادت کے مطابق ان لوگوں پر برہم ہوا مگر اس کے باوجود لوگ اتنا خوش تھے کہ مجھ سے مل کر رو پڑتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ان کا کوئی محبوب شخص ان کے پاس آگیا ہو۔ درمیان میں رحمن نگر تھا وہاں لوگوں نے استقبال کا انتظام کیا تھا۔ وہاں ان لوگوں نے کچھ دیر کے لئے ہم لوگوں کو روک لیا۔

جناب اطیعو الرحمن عرف ننھے بابو (۲۵ سال) شروع سے الرسالہ پڑھتے ہیں۔ ان کا نام سمجھنے میں مجھے دقت پیش آئی۔ پھر سمجھ میں آیا کہ یہ تأبط شرا کے اصول پر ہے، یعنی وہ اسم نہیں ہے بلکہ ایک فعلیہ جملہ کو اسم بنا لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ رحمن کی اطاعت کرو۔ انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا خلاصہ مثبت طرز فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کی کچھ باتوں کو سمجھنا ہمارے لئے بظاہر مشکل ہوتا ہے تو ہم یہ کرتے ہیں کہ اس پر آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ معاملہ واضح ہو جاتا ہے۔

میرے پاس اکثر ایسے خطوط آتے ہیں جن میں اسی مسئلہ کا ذکر ہوتا ہے جس کا ذکر اطیعو الرحمن صاحب نے کیا۔ وہ ہم سے شکایت کرتے ہیں کہ وہ بات کیوں اس طرح لکھی گئی جو ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں ان حضرات سے کہوں گا کہ وہ ایسے معاملہ میں اطیعو الرحمن صاحب کی پیروی کریں۔ جو بات خود سمجھ میں نہ آئے اس کو مل کر سمجھنے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page