تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸
جناب محمد حفظ الرحمٰن عرف ننھے بابو نے کئی دلچسپ قصے بتائے۔ انہوں نے کہا کہ باتیں اکثر ایک سے دوسرے تک پہنچ کر بدل جاتی ہیں۔ ایک صاحب شہر میں گئے اور تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے وہ تسلیمات سیکھ کر آئے۔ گاؤں میں آکر جب ان کی ملاقات لوگوں سے ہوئی تو گاؤں والوں سے انہوں نے کہا کہ ’’تسلیمات‘‘۔ گاؤں والوں کی سمجھ میں یہ لفظ نہ آیا۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ شہر جاکر اپنا طریقہ بھول گئے ہیں، سلام کے بجائے ’’تسلہ میں ہاتھ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ باتیں اکثر کس طرح بگڑ جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک صحیح بات غلط مفہوم کی حامل بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر خورشید انور صاحب (۲۰ سال) بگہا کے رہنے والے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ الرسالہ کے بارے میں اپنا تاثر بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ میں باضابطہ الرسالہ کا دس سال سے قاری ہوں۔ الرسالہ سے اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کار. جان پیدا ہوا۔ ویسے تو خاندانی مسلمان تھا۔ لیکن الرسالہ کو پڑھ کر اسلام کی اصل روح سمجھنے میں آسانی ہوئی۔ خاص طور پر آپ کی کتاب پیغمبر انقلاب‘‘ نے مجھے کافی متاثر کیا۔ جناب محمد اے خاں (۲۷ سال) نے اپنا تاثر الرسالہ کے متعلق ان الفاظ میں بتایا: ’’میں نے حضرت کو بارہا اخبار میں دیکھا، ٹی وی پر دیکھا اور ان کے مضامین اخباروں میں پڑھے۔ جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ ان سے مجھے زندگی کی حقیقت کو سمجھنے میں کافی مدد ملی۔ بالخصوص صبر وشکر اور اعراض کی باتوں نے میرے وجود کو ہلا دیا۔ بلاشبہ حضرت کے مضامین ان کی کتابیں حالیہ نسل کے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے بھی مشعل راہ ہیں۔ ‘‘ جناب محمد غیاث الدین (۳۰ سال) نے کہا کہ میں نے ابھی چند رسالے پڑھے ہیں۔ لیکن اس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں صاحب الرسالہ کا شیدائی ہو گیا، اس نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ان کی شخصیت پر انگلیاں اٹھاتے ہیں وہ یا تو عقل سلیم نہیں رکھتے یا وہ عصبیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اللہ ان کو ہر طرح سے محفوظ رکھے۔
۵ نومبر کو ۲ بجے D. M. اکیڈمی ہال (گہپا) میں میری تقریر ہوئی۔ پورا وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ بہت سارے لوگ باہر کھڑے تھے۔ یہاں ہندوؤں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ یہاں پریس رپورٹر بھی تھے جو زیادہ تر ہندو تھے۔ یہ خطاب پینتالیس منٹ کا تھا۔ جناب احمد صاحب گہپا (۶۶ سال) نے کہا کہ میں الرسالہ پڑھتا ہوں۔ میری رائے یہ ہے کہ جسم بیمار ہو جائے تو ہو جائے لیکن ذہن بیمار نہ ہو نا چاہیے انہوں نے کہا کہ قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ذہن کے اعتبار سے بیمار ہو گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اسی ذہنی بیماری کا علاج کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں بلاشبہ یہ بہت بڑا کام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues