Al-Risala · March 2001 · page 49

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۹

جناب غلام الحسین صاحب (۶۲ سال) نے کہا کہ میں الرساله اور الجمعیۃ کے وقت سے آپ کی تحریریں پڑھتا تھا۔ اور اب تک پڑھ رہا ہوں۔ اس کے علاوہ دوسری جماعتوں اور شخصیتوں کو بھی کافی پڑھا ہے۔ آپ کی تحریروں کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اس دور میں آپ صحیح اسلامی رہنمائی دے رہے ہیں۔ ۵ نومبر کی رات کو جامعہ ہارونیہ یتیم خانہ (کہا) میں ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے اسلام کی اخلاقی اور سماجی تعلیمات بیان کیں اور بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ وہ نفرت اور تشدد کا مذہب نہیں۔

جناب اکلیشور نا تھ تر پاٹھی (۵۰ سال) کہکا کے میڈل اسکول میں استاد ہیں۔ وہ دوسری کئی قابل تعریف خصوصیات کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں روحانی ذوق ہوتا ہے۔ ۶ نومبر کی صبح کو انہوں نے اپنے کچھ گیت سنائے۔ حاضرین بہت محظوظ ہوئے۔ ان کے گیت کا ایک شعر یہ تھا: کون سے دیش جا اڑی تتلی پنکھ پھولوں سے چھل گیا یارو شاعر کے ذہن میں کیا خیالات ہوں گے جو ان الفاظ میں ڈھل گئے۔ مگر میں نے جب شعر کو سنا تو میری سمجھ میں آیا کہ شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آج زمانہ میں اتنا زیادہ بگاڑ آ گیا ہے کہ نہ صرف برے لوگ اس کی زد میں آئے ہیں بلکہ وہ لوگ جو اپنے اخلاق کے اعتبار سے بے ضرر (harmless) ہیں وہ بھی اس عمومی بگاڑ کی زد سے محفوظ نہیں۔

مثلاً آج ہی صبح کو ایک واقعہ معلوم ہوا جو گویا اس خوبصورت شعر کی تشریح ہے۔ جناب سید قیصر امام صاحب جو ایک بینک میں مینیجر ہیں۔ اور عمومی شہادت کے مطابق وہ نہایت با اخلاق اور اپنی ڈیوٹی پوری کرنے والے ، کرپشن سے دور انسان ہیں۔ وہ آفس میں ڈیوٹی پوری کر کے خاموشی کے ساتھ واپس اپنی اسکوٹر سے آ رہے تھے کہ راستہ میں کچھ بندوق برداروں نے انھیں گھیر لیا۔ وہ اپنی گاڑی تیز کر کے بھاگے تو ان ظالموں نے پیچھے سے گولی مار دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تین مہینہ تک اسپتال میں پڑے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی پوری طرح نارمل نہیں ہو سکا ہوں۔

کسی سماج کے بگاڑ کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے مخالفین کو ستائیں لیکن امن پسند لوگوں سے تعرض نہ کریں۔ لیکن جب بگاڑ زیادہ بڑھتا ہے تو یہ فرق مٹ جاتا ہے، پہلے مرحلہ میں صرف برے لوگ ان کی سرکشی کا تجربہ کرتے ہیں لیکن دوسرے مرحلہ میں یہ حال ہوتا ہے کہ معصوم تتلیاں بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہتیں ۔

جناب خورشید انور صاحب (۴۰ سال) کہکا کے رہنے والے ہیں۔ وہ پروفیسر کلیم الدین کے شاگرد

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page