تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۰
ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ پروفیسر کلیم الدین احمد کی ایک بات بہت نزاعی رہی ہے اور وہ علامہ اقبال کے بارے میں ان کی رائے ہے۔ آپ ان کے شاگرد رہے ہیں۔ اپنی ذاتی واقفیت کی بنیاد پر بتائیے کہ ان کا اقبال کے بارے میں کیا خیال تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اقبال کو شاعری نہیں مانتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ اقبال کی شاعری کو آفاقی شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ جناب مولانا حفظ الرحمن صاحب خانقاہ خیر آباد (کہا) مدرسہ شمس العلوم کے پرنسپل ہیں۔ وہ ایک باغ و بہار آدمی ہیں۔ مجلس کو اپنی دلچسپ باتوں سے زعفران زار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ لطیفہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں پہلے تعلیم بہت کم تھی۔ پیر لوگ ہر سال فصل کے موقع پر یہاں آتے تھے اور لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کی ہر بات کو مان لیتے تھے۔ ایک گاؤں میں ایک قصہ پیش آیا۔ ایک لڑکے کی شادی ہوئی پھر اس کی بیوی آئی۔ اس کے بعد اس نے یہ کیا کہ باپ کی ساری جائداد پر قبضہ کر لیا اور ماں کو گھر سے نکال دیا۔ اس کے بعد ان کے گاؤں کے پیر صاحب وہاں آئے تو ان سے کہا گیا کہ یہاں ایسا قصہ ہوا ہے کہ بیٹے نے ساری جائداد پر قبضہ کر کے ماں کو گھر سے نکال دیا ہے۔ پیر صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں قرآن کے ذریعہ اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ لوگ ایسا کریں کہ میلاد شریف کا انتظام کریں۔ چنانچہ میلاد کا انتظام کیا گیا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوئے۔ پیر صاحب نے تقریر کرتے ہوئے سورہ اللہب پڑھی: تبت يدی ابی لهب و تب ما أغنى عنه ماله وما كسب۔
اس آیت کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ دیکھو، قرآن کہتا ہے کہ ماں کا سب، قرآن میں کہیں نہیں لکھا ہوا ہے کہ بیٹے کا سب۔ اتنے کھلے اعلان سے تم لوگ بغاوت کر رہے ہو۔ جب اللہ نے کہہ دیا کہ ماں کا سب تو تم نے کہاں سے نکال لیا کہ بیٹے کا سب۔ یہ تو بغاوت ہے۔ اب تم لوگ توبہ کرو اور قرآن کے لکھے کے مطابق سب کا سب ماں کو دے دو۔
پیر صاحب کی اس پر اثر تقریر کے بعد وہ آدمی کھڑا ہو گیا جس نے ماں کو جائداد سے محروم کیا تھا۔ اور ہاتھ جوڑ کر اعلان کیا کہ میں اپنی غلطی کو مانتا ہوں اور پیر صاحب جس طرح کہہ رہے ہیں اسی طرح آج سے اس پر عمل کروں گا۔
جناب سید احمد صاحب 66سال کے یہاں ۶ نومبر کی صبح کا ناشتہ تھا۔ میں وہاں پہنچا تو انہوں نے بہت محبت کے انداز میں کہا کہ حضور، سادہ روٹی لیں گے یا پوڑی۔ میں نے کہا کہ یہ مجھ سے پوچھنے کی بات نہیں آپ جو لائیں وہی کھالوں گا۔
جناب سید احمد صاحب (گھگا) نے کہا کہ میں بہت دنوں سے سنتا تھا کہ بہار اور بنگال میں پہلے ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues