تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۱
بولے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تقریباً آدمی کی اس مجلس میں انہی کی آواز سب سے زیادہ بلند ہے۔ ان کی مخلصانہ شخصیت اپنے آپ ایک خطاب تھی، خواہ انہوں نے اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا ہو۔ میں نے حضرت سجادہ نشین سے گزارش کی کہ آپ چند لفظوں میں ہم سب کے لئے کچھ نصیحت کے لئے بتائیں، اس سلسلہ میں انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ سبحان الہند مولانا احمد سعید صاحب یہاں تشریف لائے۔ ان کو مرغ کا بہت شوق تھا، دستر خوان پر مرغ کا سالن پیش کیا گیا۔ انہوں نے گوشت کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈالنے کے بعد کہا، کیوں حافظ محمد ثانی صاحب! یہ مرغ کس روغن میں پکایا گیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تلخ، مولانا احمد سعید صاحب نے کہا، استغفر اللہ مرغ کہیں روغن تلخ میں پکایا جاتا ہے۔ (روغن تلخ سے مراد سرسوں کا تیل ہے اور روغن شیریں سے مراد گھی اس کے بعد وہ دستر خوان سے اٹھ گئے اور مرغ کا گوشت نہیں کھایا۔ خانقاہ خیر آباد کے نائب سجادہ نشین مولانا فضل الرحمٰن ہارونی ہیں۔
مولانا حفظ الرحمٰن صاحب نے کہا کہ میرے والد مولانا ہارون نقشبندی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنا کام کسی کی برائی سے شروع کرتا ہے تو اس میں شر چھپا ہوتا ہے اور جو شخص اپنا کام کسی کی خیر سے شروع کرتا ہے تو اس میں خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ مزید وہ فرماتے تھے کہ تم اپنے آپ کو ایک پھلدار درخت کی طرح بنالو۔ جب کوئی اس پرڈھیلہ پھینکتاہے توچوٹ کھاکر کے بھی وہ اس کو پھل دیتا ہے۔ تم اگر کسی کو ایک پھل نہ دے سکو تو اس کو دعا ہی دے دو۔
خانقاہ ہارونیہ خیر آباد کے آس پاس ہر مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں عیسائی بھی ہیں، ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ مگر سب کے سب امن و محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس علاقہ میں زیادہ تر ہندو لوگ ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے مگر اس علاقہ کی اخلاقی قیادت مولانا حفظ الرحمٰن ہارونی کو حاصل ہے۔
جناب سید الاسلام صاحب (۵۲ سال) کلکتہ سے آکر ہمارے پروگرام میں شریک ہوئے۔ خانقاہ خیر آباد سے نکل کر جب آگے کے لئے روانگی ہوئی تو جناب سید الاسلام صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے یہاں کا ماحول دیکھنے کے بعد کہا۔ دیکھئے، یہاں ہندو اور مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ دونوں پیار اور شانتی کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ مگر ایسی باتیں اخبار میں نہیں چھپتیں، اخبار والے ڈھونڈ کر صرف جھگڑے والی باتیں لاتے ہیں اور انہیں کو چھاپتے ہیں۔ خانقاہ خیر آباد سے نکل کر جب باہر آئے تو ہماری گاڑی ایک مقام پر رکی۔ معلوم ہوا کہ یہاں اس علاقہ کے بلاک ڈویلپ منٹ افسر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مولانا جب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues