Al-Risala · March 2001 · page 52

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۲

یہاں آئیں تو آپ مجھے ان کا درشن کرائیے۔ میں اپنی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کو میری موجودگی کے بارے میں بتایا گیا تو وہ کھانا چھوڑ کر فوراًسڑک پرآئے اورمیری گاڑی کے پاس کھڑے ہو گئے۔ ان کے بدن پر اس وقت بنیان تھی جس کے ساتھ جینو لک رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہو تا تھا کہ وہ برہمن ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اسی بہانے آپ سے ملنا ہو گیا۔ انہوں نے پرنام کرتے ہوئے کہا کہ خوشی تو مجھ کو ہے کہ آج آپ کے درشن کا اور سر پر ات ہوا جس کو میں بہت دن سے چاہتا تھا۔

جناب ماسٹر منظور احمد سیا سے ملاقات ہوئی وہ گہا کی تقریر میں شریک تھے اور مختلف مجلسوں میں بھی شریک رہے۔ انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا ”مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں کو بھی آپ کی باتیں بہت پسند آتی ہیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ بار بار ہمارے بیچ میں آئیں اور اسی طرح کی باتیں سنائیں۔

میں نے کہا کہ ہندوؤں کی اس پسندیدگی کا سبب یہ ہے کہ دوسرے لوگ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں اور میں اسلام کی بات کرتا ہوں۔ ہندوؤں کے سامنے مسلمانوں کی وکالت کی جائے تو ان کے اندر حریفانہ جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ جیسے مسلمانوں کے سامنے ہندوؤں کی وکالت کی جائے تو مسلمانوں کے اندر حریفانہ جذبات جاگ اٹھیں گے۔ لیکن جب میں اسلام کی بات کرتا ہوں تو وہ فطرت انسانی کی بات ہوتی ہے، اور کون ہے جو خود اپنی فطرت کا انکار کرے۔

مسٹر کشوری شاہ جو ہماری گاڑی چلا رہے تھے انہوں نے تقریروں اور باتوں کو سننے کے بعد بغیر پوچھے کہا کہ مولانا صاحب، آپ کی باتیں ہم کو بہت اچھی لگیں۔ ہمارا من بہت خوش ہوا ہم نے بہت دنیا دیکھی ہے اور بہت لوگوں کی باتیں سنی ہیں مگر آپ جیسا فقیر ہم نے پہلی بار دیکھا ہے۔ جناب محمد مقبول حسن صاحب (50سال )سبیادیوراج نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقریر کی یہ صفت میں نے دیکھی کہ اس کو سن کر مسلمان بھی خوش ہوئے اور ہندو بھی خوش ہوئے۔ اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ آپ یہاں بار بار آئیں اور ہم کو بار بار اسی طرح محبت اور انسانیت کی بات بتائیں۔ میرے دل میں آتا ہے کہ ایسی ہستی مجھ کو نہیں دکھائی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ بس آپ ہی کے ساتھ رہوں۔ حضرت کی بات ایسی لگتی ہے کہ حضرت کی بات بار بار سنتے رہیں۔ حضرت کی ایک ایک بات غیبی ندا جیسی لگتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔

مولانا محمد ثناء اللہ ندوی جو پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ان سے میں نے پوچھا کہ پہلے آپ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page