Al-Risala · March 2001 · page 53

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۳

نے صرف تحریروں کو پڑھا تھا اب آپ نے میرے روز و شب کو دیکھا اور براہ راست طور پر میری زبان سے میری باتوں کو سنا۔ پڑھنے اور دیکھنے میں آپ نے کیا فرق پایا۔

انہوں نے جو تاثر بیان کیا اس کے الفاظ یہ تھے۔ ”میں نے آپ کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان کتابوں میں جو پیغام ہے، انسانیت کی فلاح کے لئے جو درد جھلکتا ہے، اپنے وطن اور اہل وطن کے لئے جو محبت ہے، آپس میں اتحاد و اتفاق کا جو سندیش ہے، ان تمام چیزوں کا مکمل عملی نمونہ آپ میں پایا۔ اخلاق و عمدہ برتاؤ کا حقیقی روپ آپ کے اندر دیکھنے کو ملا۔ اخلاص کو انتہائی حد تک موجود پایا۔ وقت کی پابندی، اپنے ہم سفر ساتھیوں کی سہولت کا خیال، ہر ایک کے لئے خیر خواہی کا جذبہ، مخلوقاتِ خدا سے بے حد محبت، مناظرِ فطرت کے شیدائی، علم دوست، انسانیت کے خیر خواہ، احکاماتِ خداوندی کے بہت پابند، سنتِ رسول پر زندگی گزارنے والا، صبر و شکر کا حقیقی پیکر، انسانوں میں گھل مل کر رہنا، ہر آدمی سے قریب ہونے اور ہر ایک کو قریب رکھنے کی خصلت، قول و عمل میں مکمل مطابقت رکھنے والا پایا۔ الغرض ظاہر و باطن میں، قول و عمل میں پورے سفر کے اندر زندگی کے کسی گوشہ میں فرق اور تضاد نہیں پایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی جو صفات ہیں ان کو آپ کے اندر بدرجہ اتم دیکھا۔ “ مولانا عبد الرحیم امدادی 46سال عجیب و غریب شخصیت کے آدمی ہیں۔ مادیات سے بے پرواہ، بے غرضی کی زندہ تصویر، اپنے حلیہ کے اعتبار سے قلندر، اپنے مزاج کی بنا پر میں اکثر ان کو سخت و ست کہہ دیتا تھا مگر وہ ہمیشہ مخلصانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا جواب دیتے تھے۔ ایک مجلس میں ان کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے تجربہ کے مطابق، وہ اس حدیث کی ایک زندہ تصویر ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رُبَّ اَشْعَثَ أَغْبَرَ مَدْفُوعِ بالابواب لو - اقسم علی اللہ لابرہ۔ یعنی بہت سے بکھرے بال والے اور گرد آلود اور جن پر دروازے بند ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری کرے گا۔

۶ نومبر کو ہم لوگ بگہا سے زکٹیاں جا رہے تھے۔ پورا سفر سر سبز درختوں کے ماحول میں گزر رہا تھا لیکن سڑک اتنی زیادہ خراب تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم کار پر سفر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ٹریکٹر پر سفر کر رہے ہیں۔ خراب سڑک اچھی کار کو ٹریکٹر جیسا بنا دیتی ہے۔ یہ دنیا کا نظام ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ حضرت، میرے لئے دعا کر دیجئے ۔ میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کا نام ہوگا: امتِ مسلمہ نے قائدین کو کیا دیا۔ میں نے کہا کہ یہ تو ادھوری کتاب ہے۔ آپ کو یہ بھی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page