تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۴
لکھنا چاہئے کہ قائدین نے امت مسلمہ کوکیادیا پھر میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق، قائدین نے امت مسلمہ کو بے شعوری دی، اور امت مسلمہ نے قائدین کو بھیڑ لوٹائی۔ قائدین نے امت مسلمہ کو جذباتیت دی، امت مسلمہ نے قائدین کو زندہ باد کے نعرے دئے۔ قائدین نے امت مسلمہ کو پرجوش بیانات دئے، اور امت مسلمہ نے قائدین کو چندوں کا خزانہ دیا۔ قائدین نے امت مسلمہ کو لفظی خطابت اور انشا پردازی دی، اور امت مسلمہ نے قائدین کو شاندار اسٹیج فراہم کیا۔ قائدین نے امت مسلمہ کو مخلصانہ نادانی دی اور امت مسلمہ نے قربانی دے کر قائدین کا نام روشن کیا۔ خلاصہ یہ کہ قائدین نے امت مسلمہ کو کچھ بھی نہیں دیا اور امت مسلمہ نے قائدین کو اپنا سب کچھ دے دیا۔ میں نے جب یہ بات کہی تو مولانا عبد الرحیم امدادی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آپ نے تو خود ہی دینی مدارس الرساله ستمبر ۲۰۰ میں کہا ہے کہ علماء ہند نے مدارس کی صورت میں، بہت بڑا کام کیا ہے، پھر کیا آپ کی ان دونوں باتوں میں تضاد نہیں۔
میں نے کہا کہ میں نے اس وقت جو بات کہی اس کا تعلق سیاسی قائدین سے ہے۔ مدارس کا کام بلا شبہ ایک عظیم کام ہے۔ مگر وہ تمام تر غیر سیاسی علماء نے انجام دیا ہے۔ نرکٹیا گنج میں داخل ہونے کے بعد پہلا پروگرام آدرش ودیالیہ میں ہوا۔ یہاں طلباء اساتذہ نیز شہر کے کچھ اور لوگ موجود تھے۔ نرکٹیا گنج میں جناب عبد الجبار صاحب ہیڈ ماسٹر آدرش ودیالیہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں بیالیس سال سے آپ کی تحریریں پڑھ رہا ہوں۔ اس نے میری زندگی میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے ذریعہ مجھے خدائے واحد کی معرفت اور دین کا صحیح شعور حاصل ہوا ہے۔ میں نے آپ کی تقریبا سب کتابیں پڑھی ہیں۔ میں اللہ کے فضل سے ہمیشہ سے قرآن پر ایمان رکھتا تھا مگر ”تذکیر القرآن “ پڑھ کر میں نے گویا قرآن کو پھر سے دریافت کیا۔
جناب گلریز اختر صاحب سے میں نے پوچھا کہ الرساله مشن کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا الرسالہ پڑھ کر یہ فخر ہوتا ہے کہ ہمارے اندر آپ جیسا ایک فقیر بھی ہے جو اسلام کا پیغام ساری قوموں کو یکساں طور پر پہنچار ہاہے۔ اور لوگ اس کی بات سن رہے ہیں۔ یہ مشن اگر پوری طرح پھیل جائے تو وہ وقت آئے گا جب کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان والی سوچ ختم ہو جائے اور ملک کے تمام لوگ پیار و محبت کے ساتھ مل جل کر رہنے لگیں۔
۹ نومبر کی سہ پہر کو گلریز اختر صاحب کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس ہوئی۔ تقریبا ایک درجن
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues