تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۵
اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ انہوں نے مختلف قسم کے ملکی وملی سوالات کئے جن کا میں نے جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ملکی حالات کے بارے میں آپ لوگ اوپری احوال کو دیکھتے ہیں اور گہرائی میں جو اسباب کام کر رہے ہیں ان کو نہیں دیکھتے، اس لئے آپ لوگ ہمیشہ ملک کے بارے میں مایوسی کی باتیں کرتے ہیں جب کہ میں ہمیشہ ملک کے بارے میں امید کی بات کرتا ہوں۔ عام طور پر لوگ ملک کے بارے میں صرف اسی بات کو جانتے ہیں جو میڈیا میں آۓ، میڈیا جو کہ صرف سلیکٹیو خبروں کو لیتا ہے اس لئے میڈیا کسی ملک کی صحیح تصویر کے لئے کافی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ملک کے نظام کا فیصلہ کسی پولینکل پارٹی کے دفتر میں نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دراصل فطرت کے قوانین اور تاریخ کے عوامل ہیں جو کسی ملک یا قوم کی صورت گری کرتے ہیں۔ مولانا حافظ محمد ممتاز عالم مفتاحی سے نرکٹیا گنج میں ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ ان سے میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اتنا مفید سمجھتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ سارے ہی لوگ اس رسالہ کو پڑھیں۔ انہوں نے بتایا کہ لرسالہ کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۰ " دینی مدارس" کو پڑھ کر میں اتنا متاثر ہو اکه میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ایک مدرسہ چلانا ہے۔ میرے اقتصادی حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں پھر بھی میں نے اپنی جیب سے ایک رقم نکالی اور ایک مدرسہ ابتدائی طور پر شروع کر دیا۔ میرا یقین ہے کہ انشاء اللہ یہ ایک کامیاب تعلیمی ادارہ بن کر رہے گا۔ میں جس گاؤں میں رہتا ہوں وہاں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ الرسالہ کو اتنا آگے بڑھاؤں کہ وہ پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کا ذریعہ بن جائے۔ ان کے گاؤں کانام کھیرٹیابوریا (مغربی چمپارن) ہے۔
نرکٹیا گنج میں میں جناب گلریز اختر صاحب کے مکان پر تھا۔ ایک صاحب میرے کمرے میں داخل ہوئے اورکہاکہ میں دو گھنٹہ کی تلاش کے بعد یہاں پہنچا ہوں۔ سلام کے بعد انہوں نے مصافحہ کیا۔ انہوں نے میرا ہاتھ اتنی زور سے دبایا کہ دیر تک اس کا اثر محسوس ہو تا رہا۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ میرے بھائی! اللہ نے آپ کو سختی کی صلاحیت بھی دی ہے اور نرمی کی صلاحیت بھی۔ مگر ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اس معاملہ میں باشعور ہوں۔ اپنی صلاحیتوں کا بے سوچے سمجھے استعمال نہ کریں۔ آپ کو چاہئے کہ آپ دوسروں کو اپنی سختی کا تجربہ نہ کرائیں بلکہ اپنی نرمی کا تجربہ کرائیں۔
نومبر کی شام کو انجمن اسلامیہ نرکٹیاگنج میں میری تقریر ہوئی۔ اس انجمن کے صدر ڈاکٹر محمد اکرام صاحب ہیں۔ اپنی تقریر میں میں نے علم کی اہمیت بتائی۔ اس پروگرام کے بارے میں جناب گلریز صاحب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues