تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۶
ناظم اعلیٰ جامع مسجد نرکٹیاگنج نے اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے: ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کو مل کر رہنا ہے۔ پہلے نرکٹیا گنج کو بچاؤ، نرکٹیا گنج بچے گا تب مندر مسجد، ہندو مسلمان رہیں گے۔ ۶ نومبر ۲۰۰۰ کو مغرب کے بعد نرکٹیا گنج میں عمومی جلسہ تھا۔ یہ ریلوے کالونی کے وسیع میدان میں تھا۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ اس میں تقریباً ساٹھ فیصد ہندو حضرات تھے جن میں بیشتر تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ میں نے اپنی ایک گھنٹہ کی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ملک کی تعمیر کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ آزادی کے بعد ضرورت تھی کہ ہندوستان میں تعمیرافراد و تعمیر معاشرہ کا کام کیا جائے۔ مگر یہ کام نہ ہو سکا۔ مثلاً اس دوران میں جو تحریکیں اٹھیں، مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں، وہ تقریباً سب کی سب حقوق کے لئے اٹھیں نہ کہ ڈیوٹی کے لئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارا پورا معاشرہ حقوق شناس (right conscious) ہو گیا جب کہ کامیاب معاشرہ وہ ہے جو فرض شناس (duty conscious) ہو۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ ایک بار دعا کر رہے تھے۔ دعا کے دوران آپ نے جن چیزوں سے پناہ مانگی ان میں ایک فقر تھا۔ حضرت عائشہ نے تعجب سے کہا کہ آپ فقر سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ حضور نے کہا ہاں اے عائشہ فقر اور محتاجی آدمی کو بے دین بنا دیتی ہے: كاد الفقر أن يكون كفراً۔ یہ حدیث صرف ذاتی فقر کے لئے نہیں ہے بلکہ قومی فقر کے لئے بھی ہے۔ اس لئے ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ ملک کو اقتصادی بدحالی سے نکال کر خوش حالی کے دور میں لائیں۔ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر ہو، وغیرہ۔ مسز نوشابہ انجم پرنسپل سن رائز اکیڈمی بتانے اپنی ڈائری میں مجھ سے کوئی نصیحت لکھنے کے لئے کہا۔ میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دئے: دوسروں کے مقابلہ میں بے شکایت ہو جانا اور اپنے عمل پر بھروسہ کرنا۔ یہی دو چیزیں دنیا میں کامیابی کی یقینی ضمانت ہیں۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں نے اپنی ڈائری پر نصیحت کے کلمات لکھوائے۔ کسی کی ڈائری پر میں نے لکھا کہ بولنے والا حقیقت میں وہ ہے جو اس سے پہلے سننے کے مرحلہ سے گزر چکا ہو۔
اسی طرح ایک اور صاحب کی ڈائری پر میں نے لکھا کہ سچا اقدام وہ ہے جو مستقبل کو دیکھ کر کیا جائے نہ کہ صرف حال کو دیکھ کر۔ اسی طرح ایک اور صاحب کی ڈائری میں میں نے لکھا کہ ڈگری کے ذریعہ سروس ملتی ہے اور علم کے ذریعہ زندگی کا شعور۔ اسی طرح ایک اور نوجوان کی ڈائری پر میں نے لکھا کہ نوجوانی کی عمر ہی کام کی عمر ہوتی ہے، مگر بیشتر لوگ اپنی عمر کے اس قیمتی حصہ کو ضائع کر دیتے ہیں۔ ایک اور صاحب کی ڈائری پر لکھا کہ بولنے سے پہلے سوچئے اورکرنے سے پہلے منصوبہ بنائیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues