Al-Risala · March 2001 · page 57

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۷

۶ نومبر کی شام کو حاجی ڈاکٹر محمد اکرام کے یہاں شام کا کھانا تھا۔ رات بھی انہیں کے یہاں گزاری۔

۷ نومبر کی صبح کو جب میں ڈاکٹر محمد اکرام صاحب نرکٹیا گنج کے مکان پر تھا تو میں نے دیکھا کہ گھر کے باہر کافی کہر پھیلا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہمالیہ پہاڑ یہاں سے صرف ۴۰ کلومیٹر دور ہے۔ چنانچہ یہاں سردیوں کا موسم آتے ہی کہر شروع ہو جاتا ہے۔ ۷ نومبر کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد حاضرین سے مختصر گفتگو کی۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل ایک نازک عمل ہے جس طرح تجارت کا عمل ایک نازک عمل ہوتا ہے۔ تجارت کے لئے پہلا کام یہ ہے کہ آدمی گاہکوں کے نزدیک اعتبار حاصل کرے۔ اگر وہ گاہکوں کی نظر میں ایک غیر معتبر آدمی بن جائے تو وہ اپنی تجارت کامیابی کے ساتھ نہیں چلا سکتا۔ اسی طرح داعی کی شخصیت اگر مدعو گروہ کی نظر میں غیر معتبر شخصیت بن جائے تو وہ اپنا دعوتی عمل موثر طور پر ان کے درمیان جاری نہیں کر سکتا۔ نرکٹیا گنج اور بتیا کے راستہ میں ایک معاملہ پیش آیا اس کے بعد میں نے مولانا عبدالرحیم امدادی سے کہا کہ آپ لوگ صرف ایک کام جانتے ہیں۔ کوئی عالم مل جائے تو اس کا سر اور پاؤں دبانا اس کے وضو کے لئے پانی رکھنا۔ جب وہ وضو کرے تو اس کے پیچھے تولیہ لے کر کھڑے رہنا، جب وہ بات کرے تو تسبیح لے کر اس کے دانہ پرانگلیاں پھراتے رہنا، وہ اٹھے تو اس کا ہاتھ پکڑ لینا، کہیں جانے لگے تو جلدی سے اس کا جوتا سیدھا کرنا اور یہ سب کر کے صرف یہ کہنا کہ حضرت میرے لئے دعا کیجئے اور پھر مطمئن ہو جانا کہ حضرت کی برکت سے دنیا و آخرت کے تمام معاملات درست ہو گئے۔ میں نے کہا کہ ہمارا مشن اس سے بالکل مختلف ہے۔ پوری امت ایک ایسے نقشہ کار کی عادی ہو گئی ہے جس میں سوچنے کے عمل کا کوئی خانہ ہی نہیں ہے یہ پورا عمل برکت کے تصور پر قائم ہے نہ کہ شعور پر۔ ہمیں اس نقشہ کو بدلنا ہے، ہمارا مشن امت کو باشعور بنانا ہے نہ کہ برکت کی پراسرار گولیاں تقسیم کرنا۔ نرکٹیا گنج سے پٹنہ جاتے ہوئے ہم لوگ حسب ذیل مقام سے گزرے_ نمی چوک، ساتھی، چنپیا، کمار باغ، بتیا، چھپوا، موتی ہاری، چکیا، مہسی، موتی پور، کاٹی مظفر پور، رام دیالو، ترکی، گرول، بھگوان پور، سرائے حاجی پور، گنگا پل، گاندھی پل، پٹنہ وغیرہ۔ قاری محمدظفیر عالم صاحب (۴۵ سال) بھی اس سفر میں ہم لوگوں کے ساتھ تھے وہ نیپال میں پورنیا کے قریب رہتے ہیں۔ یہاں مدرسہ حسینیہ ہے جو ۱۹۱۳ میں قائم کیا گیا۔ قاری محمد ظفیر عالم اس کے صدر مدرس ہیں۔ اس مدرسہ میں چار سو طلبہ ہیں۔ اساتذہ کی تعداد دس ہے۔ اس مدرسہ کی اپنی عمارت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page