Al-Risala · March 2001 · page 58

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۵۸

کے احاطہ میں ایک باقاعدہ مسجد بھی ہے۔ یہ اس علاقہ کا سب سے بڑا مدرسہ ہے۔ اور اسی طرح ترائی کے علاقہ میں ایک اور بہت بڑا مدرسہ محمودیہ راچپور گوڑ، نیپال ہے جو ندوۃ العلماء کی شاخ ہے۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: الرسالہ میں دین ودنیا کی حکمت بتائی جاتی ہے۔ الرسالہ کا پیغام یہ ہے کہ تھوڑا نقصان برداشت کر لو تا کہ تم زیادہ فائدہ حاصل کر سکو۔ انہوں نے کہا کہ خوش اخلاقی ایک طاقت ہے، آدمی کے اندر اگر خوش اخلاقی ہو تو وہ اس کے ذریعہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔

شری سبودھ کمارسنگھ 28سال سے تیا میں ملاقات ہوئی، ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پڑھ لکھ کر بے روزگار ہوں۔ انہوں نے الرسالہ ہندی کے شمارے پڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی باتیں بہت زیادہ دل کو لگتی ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ الرسالہ میں ایک بات پڑھنا بھول گئے۔ وہ یہ کہ آدمی باہر سے بے روزگار ہو سکتا ہے مگر من سے کوئی آدمی بے روزگار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چار سال سے بے روزگار ہیں۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنی ساری عمر ہی بے روزگار رہا ہوں مگر میں نے اپنے آپ کو ایک دن بھی بے روزگار نہیں سمجھا۔ ایک روزگار وہ ہے جو دفتروں میں دیا جاتا ہے دوسرا روزگار وہ ہے جو آدمی خود اپنے آپ بناتا ہے۔

پھر میں نے کہا کہ دیکھنے میں ایک ہفتہ سے بہار کی یاترا کر رہا ہوں، دیکھنے والوں کے لئے یہ ایک باہر یاترا ہو سکتی ہے مگر میرے لئے وہ ایک بھیتر یاترا ہے۔ میں یہ سفر دوسروں کو کچھ دینے کے لئے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دوسروں سے کچھ لینے کے لئے کر رہا ہوں۔ میرے لئے چڑیوں کی آوازیں ٹیچر کا کام کرتی ہیں۔ میرے لئے پیڑ کی پتیاں کتاب فطرت کے اوراق ہیں، حتیٰ کہ بہار کی ٹوٹی سڑکیں بھی مجھ کو انسانی عجز کی یاد دلاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ ہندی کو دیکھنے کے بعد میں نے طے کیا ہے کہ اس کو برابر پڑھوں گا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو اس میں کیا ملا، انہوں نے کہا کہ اس میں مانویہ سچائی (मानवीय सच्चाई) ملی۔ الرسالہ میں جو چیز ہم کو ملی وہ کہیں اور سے نہیں ملی۔

راستہ میں منشاء ٹولہ سے گزرے جہاں سڑک کے کنارے جناب نعیم اختر صاحب کا مکان ہے۔ ان کے اصرار کے تحت ہمارے قافلہ نے ان کے گھر پر چائے پی اور کچھ سوالوں پر گفتگو ہوئی۔ جناب نعیم اختر صاحب نے کہا کہ آپ علامہ اقبال پر تنقید کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ علامہ اقبال کا زمانہ وہ تھا جب کہ مسلمان سیاسی محرومی کا شکار ہوئے جس کے نتیجہ میں ان کے اندر مایوسی پیدا ہوئی۔ لوگوں کے اندر شکست

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page