Al-Risala · August 2006 · page 5

Mine was the case of missed opportunity.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۵

حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرنا جانے۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ آخر میں وہ مایوسی کے ساتھ یہ کہے گا کہ میں نے کتنا قیمتی موقع کھو دیا:

Mine was the case of missed opportunity.

عقل مند وہ ہے جو خاتمہ حیات سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے۔ زندگی کے سفر کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے لیے ایک ایسے خاتمے پر پہنچنے والا ہے جہاں سے واپسی کسی بھی عورت یا مرد کے لیے ممکن نہ ہوگی۔

ہندوستان ٹائمز (۹ مارچ ۲۰۰۶) کے درمیانی صفحے پر ایک مضمون تھا۔ اس کے لکھنے والے مسٹر ویر سنگھوی (Vir Sanghvi) تھے۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:

Against the Current.

یہ مضمون ۷ مارچ ۲۰۰۶ کو بنارس میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں تھا۔ اس تاریخ کو بنارس کے ہنومان مندر میں بم دھماکا ہوا۔ اس سے مندر کو کافی نقصان پہنچا۔ اس طرح کے واقعات پر اس سے پہلے شدید ردعمل ہوتا تھا اور فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھتا تھا۔ مگر اس بار عوامی ردعمل کے اعتبار سے یہ بم دھماکا بالکل مختلف (completely different) ثابت ہوا۔ پچھلی روایت کو دیکھتے ہوئے یہ بم دھماکا سخت اشتعال انگیز ثابت ہوسکتا تھا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ اس واقعے کے بعد نہ بنارس میں کوئی منفی ردعمل ہوا، اور نہ اس کو لے کر کسی دوسرے مقام پر۔ ۷ مارچ کے بم دھماکے کے بعد کچھ انتہا پسند ہندو بنارس کے ہنومان مندر پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ ہم مندر کو پوتر کرنے کے لیے اس کو گنگا جل سے دھوئیں گے۔ لیکن مندر کے مہنت نے سختی کے ساتھ انھیں روکا، اور انھیں اپنا عمل کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ میڈیا میں بھی اس کی رپورٹنگ زیادہ سنسنی خیز انداز میں نہیں ہوئی۔

بنارس ، ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ اس مقدس شہر میں ہندو عقیدے کے مطابق ، ایک مقدس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page