Al-Risala · August 2006 · page 6

Against the Current.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۶

مندر میں بم بلاسٹ ہوا۔ میڈیا میں یہ خبر بھی آئی کہ لشکر قہر نامی ایک مسلم تنظیم نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ اس کے باوجود امن برقرار رہا اور پچھلی روایات کے خلاف، تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات نہیں ہوئے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ پچاس سالہ تجربے کے بعد اب ہندو کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی دونوں نے بلا اعلان ایک خاموش فیصلہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ اب اشتعال کے باوجود مشتعل نہیں ہوں گے، وہ ہر حال میں امن کو برقرار رکھیں گے۔ کیوں کہ اس میں دونوں فرقوں کا فائدہ ہے۔ اور اس کے خلاف طریقے میں دونوں کا نقصان۔

جو لوگ ماہ نامہ الرسالہ پڑھتے رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ راقم الحروف نے اس سے پہلے بار بار یہ لکھا تھا کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات صرف اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دونوں فرقے امن کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ جیسے ہی وہ جان لیں گے کہ سارا فائدہ امن میں چھپا ہوا ہے اور تشدد میں صرف نقصان ہی نقصان ہے، فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بنارس کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں وہ دور آ چکا ہے۔

کل شام کی ڈاک سے پاکستان کا ماہ نامہ ’’سوئے حرم‘‘ (مارچ ۲۰۰۶) ملا تھا۔ آج صبح کو اسے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون (مولانا وحید الدین خاں کی فکر کا تجریاتی مطالعہ) میرے بارے میں تھا۔ اردو صحافت میں لکھنے کا جو انداز ہے اسی انداز میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ یعنی کسی دلیل کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا۔ مثلاً اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ــــ ’’میں صاحبِ دعوت کی ان عظیم تحریکوں کو مسترد کرتے ہوئے ہر ایرے غیرے کو دعوت کے کام پر اکسا کر اسلامی کی حقیقی تعلیمات سے نا آشنا جدید تعلیم یافتہ افراد کو علماء ربانی ، صوفیا اور تبلیغی جماعت جیسے دعوتی اداروں سے دور کرنے کا بھی فریضہ انجام دے رہا ہوں‘‘۔ (صفحہ ۷۸)

اس اقتباس میں جو بات کہی گئی ہے اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ مضمون نگار نے علمی تنقید کو تردید کے ہم معنی سمجھ لیا۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے جو ساری امت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ آج بھی ہر دینی مدرسے میں درسِ حدیث کے دوران ہر محدث یہی فعل انجام دیتا ہے۔ اسی طرح تمام علماء

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page