Al-Risala · August 2006 · page 7

Against the Current.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۷

ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ابن تیمیہ نے صوفیاء پر تنقید کی۔ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی پر تنقید کی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے تبلیغی جماعت پر تنقید کی۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے جماعت اسلامی پر تنقید کی، وغیرہ۔ تجزیاتی تنقید کبھی تردید کے ہم معنی نہیں ہوتی۔ وہ علمی اظہار خیال کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ ایک صحت مند فعل ہے جو علمی ترقی کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ اقتباس میں اس عمل کو بُرا نام دے کر مطعون کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالاں کہ کسی چیز کو برا نام دینا سرتا سر ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ (بئس الاسم الفسوق بعد الایمان، الحجرات 11)

علمی تنقید و تجزیہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اسلاف سے بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے، یہ بلاشبہ ایک صحیح چیز کو غلط نام دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی تنقید مکمل معنوں میں ایک تعمیری سرگرمی ہے۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ علمی تنقید کا خاتمہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے۔ جو بلاشبہ فکری اور روحانی موت کے ہم معنیٰ ہے۔

جہاز کے اندر پینے کے لیے کافی دی گئی۔ کافی کی پیالی پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے_ ہوشیار جس چیز سے آپ محظوظ ہونے جارہے ہیں وہ بہت زیادہ گرم ہے:

Careful, the drink you are about to enjoy is extremly hot!

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ گرم چائے کا جو معاملہ ہے وہی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ یہ دنیا جس کے اندر انسان زندگی گزارتا ہے وہ بظاہر بہت پرکشش ہے لیکن اسی کے ساتھ وہ فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ دنیا گویا ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جس سے بہت زیادہ بچتے ہوئے انسان کو اپنا سفر کرنا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھے بغیر دنیا کی زندگی میں داخل ہو جائیں وہ یقینی طور پر خطرات میں مبتلا ہو جائیں گے۔

راستے میں ایک موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ موسم خراب ہے۔ آپ لوگ اپنی پٹیاں باندھ لیں۔ اس کے اگلے لمحے جہاز ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے نیچے اور اوپر ہو رہا تھا۔ یہ کیفیت کچھ منٹ باقی رہی اس کے بعد جہاز معتدل طور پر پرواز کرنے لگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page