Al-Risala · August 2006 · page 8

Against the Current.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۸

جہازوں میں پرواز کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے۔ اس کو موسم کی خرابی یا آپ ڈارفٹ، ڈاؤن ڈرافٹ (up draft, down draft) کہا جاتا ہے۔ جب جہاز تیزی سے ہل رہا تھا تو میں نے سوچا کہ ہماری زمین بھی ایک بہت بڑا جہاز ہے۔ وہ ہم کو لے کر رات دن مسلسل پرواز کی حالت میں رہتی ہے۔ مگر زمین میں کبھی اس طرح کی جنبش نہیں ہوتی۔ وہ کروڑوں سال سے بالکل ہموار انداز میں حرکت کر رہی ہے۔ مگر انسان اس عظیم نعمت کا احساس نہیں کرتا۔ وہ انعام سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن وہ منعم کا اعتراف نہیں کرتا۔

انسان کی اس بے خبری کو توڑنے کے لیے زمین پر بھونچال آتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھونچال انسان کی یاد دہانی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ جب بھونچال آتے ہیں تو وہ وقتی طور پر آہ و واویلا کرتا ہے اور پھر پہلے کی طرح ہو جاتا ہے۔ قیامت کا بڑا بھونچال اس لیے آئے گا کہ وہ آخری طور پر انسان کی بے خبری کو توڑ دے، اگر چہ اُس وقت بے خبری کا یہ ٹوٹنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ ۹ مارچ ۲۰۰۶ کی دوپہر کو ہمارا جہاز ٹھیک وقت پر حیدر آباد ائر پورٹ پر پہنچا۔ یہاں حبیب بھائی، احمد بھائی، مولانا عبدالرؤف قاسمی وغیرہ کئی لوگ ائر پورٹ پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر حبیب بھائی کی رہائش گاہ (جبلی ہل) پہنچا۔ یہاں شہر کے کچھ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ دن کا کھانا یہاں کھایا گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ قافلے کی صورت میں حبیب بھائی کے سنٹر پر گئے ۔ یہ سنٹر انھوں نے جبلی ہل کی ایک بلڈنگ میں قائم کیا ہے۔ جبلی ہل کا ایریا حیدر آباد کا سب سے زیادہ ممتاز ایریا سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جن کو جدید سہولیات کہا جاتا ہے۔

سنٹر میں کئی لوگ پہلے سے موجود تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہوئیں، اور ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ یہاں ادا کی گئی۔ نماز کے بعد حبیب بھائی کے سنٹر کا افتتاحی پروگرام تھا۔ اس کی صدارت حیدر آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شیومار نے کی۔ ان کی تمہیدی تقریر کے بعد میں نے خطاب کیا۔ سامعین میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو الرسالہ مشن سے فکری طور پر وابستہ ہیں۔ میں نے اپنی تقریر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page