Al-Risala · August 2006 · page 9

Simple living, high thinking.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۹

میں کہا کہ حبیب بھائی نے یہ سنٹر جو حیدر آباد میں قائم کیا ہے وہ بہت اچھا قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سنٹر ترقی کرے گا اور نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کا اعلیٰ پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔ پروفیسر کمار اس سے پہلے انگریزی کے پروفیسر تھے پھر وہ وائس چانسلر بنائے گیے۔ اب ان کی عمر ۸۵ سال ہو چکی ہے لیکن اب بھی وہ روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ سنٹر کی طرف سے انھیں میری کچھ کتابیں (انگریزی، تامل) دی گئیں۔ انھوں نے ان کتابوں کو خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم دو مہینہ مجھے مولانا صاحب کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا۔ اس موقعے پر حاضرین کے درمیان لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، سادگی (simplicity) صرف ایک چیز نہیں ہے، وہ ایک مکمل لائف اسٹائل ہے۔ سادگی کا تعلق تمام چیزوں سے جڑا ہوا ہے۔ مثلاً سادگی ہے تو کفایت شعاری ہے۔ سادگی ہے تو وقت کا صحیح استعمال ہے۔ سادگی ہے تو آدمی وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے۔ سادگی ہے تو تندرستی ہے۔ سادگی ہے تو ساؤنڈ سلیپ ہے۔ سادگی ہے تو ہاضمے کی درستگی ہے۔ سادگی ہے تو تعمیری سرگرمیاں ہیں۔ سادگی ہے تو ذہنی سکون ہے۔ سادگی ہے تو سب کچھ ہے۔ انگریزی کا مثل ہے کہ۔ سادہ زندگی، اونچی سوچ:

Simple living, high thinking.

سادہ زندگی اور اونچی سوچ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ سادہ زندگی ہوگی تو اونچی سوچ ہوگی۔ سادہ زندگی نہیں تو اونچی سوچ بھی نہیں۔ سادہ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ صرف اہم چیز کو اہم سمجھنا، اور تمام غیر اہم چیزوں کو ثانوی درجے کے خانے میں ڈال دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ سادہ زندگی بامقصد انسان کا کلچر ہے۔ با مقصد انسان غیر سادہ زندگی کا متحمل نہیں کر سکتا۔ غیر سادہ زندگی مقصدیت سے انحراف کے ہم معنی ہے۔ غیر سادہ زندگی آدمی کو بے مقصد چیزوں میں مشغول کر دیتی ہے۔ جو آدمی با مقصد زندگی گزارنا چاہتا ہو اس کو لازماً معاملے میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ کسی بھی عذر کی بنا پر سادگی کو چھوڑنا، اپنے آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page