Al-Risala · August 2006 · page 10

Simple living, high thinking.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰

ہلاکت میں ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، سادگی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیوی، بچے اور رشتے دار ہیں۔ جو آدمی بیوی، بچوں اور رشتے داروں کے فتنے سے اوپر نہ اٹھ سکے وہ کبھی سادہ زندگی اختیار نہیں کر سکتا۔

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی بھی دن اپنی نئی زندگی شروع کر سکے۔ اس معاملے میں کوئی بھی تاخیر حقیقی تاخیر نہیں۔ اس نئی زندگی کا تعلق، جسمانی اعتبار سے بھی ہے اور ذہنی اور روحانی اعتبار سے بھی۔ البتہ اس کی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی کسی کو یہ درجہ مل سکتا ہے۔ یہ قیمت ہے وسیع تر معنوں میں صبر۔

مثلاً ایک شخص ہے جس کی جسمانی صحت خراب ہو چکی ہے۔ وہ ہر دن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک نئی صحت مند زندگی حاصل کر سکے۔ جسمانی صحت کیوں خراب ہوتی ہے، اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے غلط عادت زیادہ کھانا، لذیذ کھانوں کا استعمال، تمباکو اور شراب جیسی چیزیں استعمال کرنا، غصہ اور نفرت میں جینا، جنسی ہوس کا شکار رہنا، آرام طلب بن جانا، وغیرہ۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ اس قسم کی تمام خلاف صحت عادتوں کو چھوڑ دے تو کسی بھی دن وہ اپنے لیے ایک نئی جسمانی صحت حاصل کر سکتا ہے۔

یہی معاملہ ذہنی اور روحانی ترقی کا ہے۔ آدمی ہر دن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کر سکے۔ مگر یہاں بھی اس کو اس کی ضروری قیمت ادا کرنا ہے— وقت کا بھر پور استعمال، غیر ضروری تفریحات سے اپنے آپ کو بچانا، سطحی دل چسپیوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھانا، متعصبانہ طرز فکر سے اپنے آپ کو پاک کرنا، اپنے اندر کامل تواضع کی صفت پیدا کرنا، ہر وقت اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار رہنا، مطالعہ اور غور و فکر کی زندگی اختیار کرنا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے امکانات لامناہی طور پر بہت زیادہ ہیں۔ ہر آدمی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں کو ختم کر کے نئی زندگی شروع کر سکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page