If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
ضروری قیمت دینے کے لیے تیار ہو، اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی کسی بھی عذر کو عذر نہ بنائے:
If you have a good excuse don't use it.
اس دنیا میں ہر چیز قابل حصول ہے۔ بشرطیکہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ قیمت کی ادائیگی کے بعد مطلوب چیز مل کر رہتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا، خواہ وہ کسی اور اعتبار سے اپنی تمناؤں کا پہاڑ کھڑا کر دے۔
۹ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ساڑھے تین بجے حیدر آباد یونیورسٹی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا موضوع امن(peace) مقرر کیا گیا تھا۔ اس موضوع پر بولنے کے لیے مجھے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا، میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ امن کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے امن کو قائم کیا جائے۔ امن کی اصل اہمیت یہ ہے کہ امن حالات کو معتدل بناتا ہے۔ امن کی حالت قائم ہونے کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر قسم کی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری کی جائیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کسی سے بات کریں تو ہر آدمی حتی کہ جنگ جو لوگ بھی یہی کہیں گے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر ہم کو عدل کے ساتھ امن(peace with justice) چاہیے ۔ یہ ایک غیر فطری شرط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل، امن کا نتیجہ نہیں۔ عدل خود اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ مواقع (opportunities) کھل جاتے ہیں، اور ان مواقع کو استعمال کر کے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو عدل کہا جاتا ہے۔
تقریر کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ : رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر - اس میں جہاد اکبر سے کیا مراد ہے۔ جہاد بالنفس یا کوئی اور عمل۔ میں نے کہا کہ جہاد اکبر سے مراد دعوت کا عمل ہے، اور یہ خود قرآن سے ثابت ہے ۔ قرآن میں ہے کہ : وجاهد هم به جهاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) ۔ اس آیت میں جہاد سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues