If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲
مراد جہاد بالقرآن ہے۔ یہاں جہاد بالقرآن کو جہاد کبیر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جس چیز کو جہاد اکبر کہا گیا ہے اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے، یعنی دعوتی جہاد۔
ایک سوال یہ تھا کہ ہندوستان کے حالات دعوت کے لیے سخت مخالف ہیں۔ پھر یہاں دعوت کا عمل کس طرح انجام دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ ہندوستان میں دعوت کے عمل کے لیے حالات سازگار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی اکثریت استثنائی طور پر یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ گویا کہ وہ اسلام کی صداقت کو پہلے ہی سے امکانی طور پر مانے ہوئے ہیں۔ اس لیے اسلام کی دعوت اُن کے لیے کوئی غیر مانوس چیز نہیں۔ پھر بھی میں مانتا ہوں کہ یہاں اس سلسلے میں کچھ رکاوٹیں ہیں مگر اس کا سبب خود مسلمان ہیں۔ انگریزی دور سے لے کر اب تک مناظرہ (debate) کیا جاتا رہا ہے۔ پہلے یہ مناظرہ اردو زبان میں ہوتا تھا۔ اب اردو زبان کے ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی یہ مناظرہ کیا جانے لگا ہے۔
مناظرے کی نفسیات یہ ہے کہ اس سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہیں ہوتا بلکہ دونوں کے درمیان حریفانہ اور رقیبانہ رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح دعوت کے مواقع غیر ضروری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے مناظرہ بازی کی تاریخ سے کئی مثالیں پیش کیں۔
ایک انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان نے سوال کیا کہ ہم خدا کی معرفت کیسے حاصل کریں اور خدا کے پسندیدہ راستے کو کیسے جانیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا طریقہ بالکل آسان ہے۔ آپ یہ کریں کہ پہلے کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کریں۔ اس کے بعد موجودہ زمانے میں چھپنے والے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ اس مطالعے کے بعد بھی اگر آپ کے سوالات باقی رہتے ہیں تو آپ اہلِ علم سے رجوع کریں، اور ساتھ ساتھ خدا سے دعا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues