Al-Risala · August 2006 · page 13

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

کرتے رہیں ۔ انشاء اللہ آپ کا ذہن کھل جائے گا۔

ایک سوال یہ تھا کہ آپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہمارے لیے مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مواقع موجود ہیں۔ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی تعمیری کام کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پر امن ماحول ہے۔ ہندوستان میں استثنائی طور پر امن کی یہ حالت موجود ہے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں مخصوص اسباب کی بنا پر وہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کو میں جبری امن (compulsive peace) کہتا ہوں ۔ ہندوستان میں دو بڑے فرقے ہیں ۔ ہندو اور مسلمان ۔ اس جبری امن کا تعلق دونوں ہی فرقوں سے ہے۔

ہندو اس لیے پر امن رہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک دولت پرست قوم ہیں۔ بار بار کے تجربے کے بعد انھوں نے دیکھ لیا ہے کہ جب کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور بے امنی کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ان کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ اُن کے اندر وہ ذہن پیدا ہوگیا ہے جس کو ایک ہندو تاجر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا ۔ ہم فرقہ وارانہ فساد کا تحمّل نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ جب بھی کسی مقام پر فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ہمارا کار و بار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمیں اس کی بھاری مالیاتی قیمت دینی پڑتی ہے۔ اس لیے خود اپنے تجارتی مفاد کے لیے ضروری ہے کہ ہم فرقہ وارانہ فساد سے دور رہیں ۔ یہی معاملہ دوسرے انداز میں مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اپنے پر جوش رہنماؤں کی باتوں سے متاثر ہو کر ایسے خیالات میں جی رہے تھے جن کو ایک معروف مسلم شاعر نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے: شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو! ۱۹۴۷ کے بعد مسلمان اٹھیں خیالات کو لے کر نئے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے بار بار شعوری یا غیر شعوری طور پر ’باطل کی غارت گری‘ کا عمل کرنا چاہا مگر ہر بار انھیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ آخر کار انھوں نے یہ محسوس کر لیا کہ ہندوستان میں وہ بڑی اکثریت کے مقابلے میں چھوٹی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ’باطل کی غارت گری‘ کا فارمولا یہاں قابل عمل نہیں۔ اپنی مجلسوں میں مسلمان اگرچہ اب بھی اس قسم کے اشعار کو پڑھ کر خوش ہوتے ہیں لیکن عملی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page