If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
زندگی میں انھوں نے اس نظریے کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔ اب مسلمانوں میں وہی حالت قائم ہوگی ہے جس کو میں نے جبری امن سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہندوستان میں دونوں فریقوں کی طرف سے امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ یہ حالت ہم کو موقع دیتی ہے کہ ہم سکون کے ساتھ اپنے تعمیری منصوبے کو بروئے کار لائیں۔
پروگرام کے سلسلے میں اکثر میں نے لوگوں کو اپنی ایک کمزوری بتائی ہے۔ لیکن لوگ اس کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ میں کارسک (car sick) ہوں۔ کار خواہ کتنی ہی اچھی ہو لیکن جب میں کار میں سفر کرتا ہوں تو بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میں معتدل انداز میں بولنے کے قابل نہیں رہتا۔ میں نے بار بار لوگوں کو یہ بات بتائی ہے۔ لیکن چوں کہ دوسرے لوگوں کا یہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ میری اس کمزوری کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی جگہ پروگرام رکھ دیتے ہیں جہاں مجھے قیام گاہ سے دور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر عام طور پر کار کے ذریعے ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہو جاتا ہے، اور انشراح ختم ہو جاتا ہے۔ میرے ذوق کی بات یہ ہے کہ پروگرام کسی ایک جگہ ہو، مجھ کو ادھر اُدھر جانا نہ پڑے۔ میری قیام گاہ اور اجتماع گاہ دونوں ایک ہو۔ میں اپنے حالات اور اپنے مزاج کی وجہ سے اسی طریقے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد نشست ہوئی تو بہت سے لوگ یہاں جمع ہو گئے۔ مثلاً محمد خورشید اکرم سوز، ایوت مال (عمر ۴۱ سال) اور ڈاکٹر پی۔ کے۔ حسین ڈاودڑ، کالی کٹ (عمر ۴۸ سال)۔ میں نے اپنی گفتگو میں کئی دینی مسائل کا ذکر کیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں مجادلہ (النحل ۱۲۵) کی اجازت آئی ہے۔ کیا یہ مجادلہ وہی چیز ہے جس کو عام طور پر مناظرہ یا ڈیبیٹ کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں مجادلہ کا مطلب مناظرہ نہیں، بلکہ پُر امن ڈائیلاگ ہے۔ ایسا ڈائیلاگ جس سے نفرت اور دوری پیدا نہ ہو۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں اس آیت کے اترنے کے بعد رسول اور اصحاب رسول نے کبھی کسی سے مناظرہ نہیں کیا۔ اُن کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues