Al-Risala · August 2006 · page 15

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵

طریق دعوت عام طور پر یہ تھا کہ قرآن کو پڑھ کر سنانا ، اور اگر ضرورت ہو تو معمولی وضاحت کرنا ۔ قرآن کا طریق تبلیغ وہی ہے جس کو دوسرے مقام پر قولا بلیغاً (النساء ۶۳) کہا گیا ہے، یعنی دل میں اتر جانے والی بات ۔

ایوت مال سے محمد خورشید اکرم صاحب پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی دعوت حق سرکل کے نام سے ایوت مال میں دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات سے براہ راست مل کر ان سے گفتگو کرتے ہیں، اور پھر انھیں CPS International کے تحت، چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔

اسی طرح مختلف مقامات پر لوگ حلقے قائم کر کے دعوت اور اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ مثلاً حیدر آباد، بنگلور، کالی کٹ، بمبئی، ناگپور، میرٹھ، سہارن پور، وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔ اسی طرح کام زیادہ نتیجہ خیز طور پر آگے بڑھتا ہے۔

حیدر آباد کے زمانہ قیام میں ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو جناب حسن الدین احمد صاحب (آئی۔اے ۔ ایس) میری قیام گاہ پر تشریف لائے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک کتاب (طلوعِ فکر) زیر طبع ہے۔ اس کتاب کے ایک ٹائپ شدہ باب کی کاپی انھوں نے مجھے دی۔ یہ دراصل ان کا ایک خطبہ صدارت تھا۔ حیدر آباد میں ۵ جون ۱۹۸۸ کو اسلامی مرکز دہلی کی برانچ کے افتتاح کے طور پر ایک جلسہ ہوا تھا۔ اس جلسے کے صدر جناب حسن الدین احمد صاحب تھے۔ اس موقع پر میں نے اسلامی مرکز کے مقاصد پر ایک تفصیلی تقریر کی تھی۔ جناب حسن الدین احمد صاحب نے آٹھ صفحے کا ایک خطبہ صدارت پیش کیا۔ اس میں انھوں نے راقم الحروف کی علمی اور دعوتی خدمات کا مکمل اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :

”آج مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ عوامی طرزِ عمل یہ ثابت کر رہا ہے کہ مولانا بلند پایہ شخصیت کے حامل ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کرنے والے اُن پر ایسے الزامات عائد کرتے ہیں جن سے وہ بری ہیں۔ ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page