If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
نیت پر شبہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ (صفحہ: ۲۵۸)
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں کی ہر چیز پرچہ امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ بھی آپ کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کی صرف دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اُس پر ایسی تنقید کریں جو مسلمہ علمی معیار کے مطابق، درست قرار پاتی ہو۔ اور اگر آپ کے اندر یہ صلاحیت نہیں تو آپ پر فرض ہے کہ آپ اس کے بارے میں خاموشی کا طریقہ اختیار کریں (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت)۔ اس کے بجائے تیسرا طریقہ اختیار کرنا فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی بے بنیاد تنقید کرنا، حوالے کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا، نیت پر شک کا اظہار کرنا، علمی تجزیہ کے بجائے تنقیص کا طریقہ اختیار کرنا، خود ساختہ معیار پر غلط قرار دینا، یہ سب تنقید کی ناجائز صورتیں ہیں۔ جو آدمی یہ تیسرا طریقہ اختیار کرے وہ اپنے امتحان میں فیل ہو گیا۔
حیدر آباد یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں پر کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے، ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں جو پہلی وحی آئی اس میں کہا گیا تھا کہ پڑھو۔ اس سلسلے میں روایت میں آتا ہے کہ فرشتہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ پڑھو۔ آپ نے فرمایا کہ ما أنا بقاریء ۔ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس کے بعد فرشتے نے دوبارہ کہا کہ پڑھو۔ اسی طرح تیسرا بار بھی یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخر چوتھی بار آپ نے فرشتے کے تلقین کیے ہوئے الفاظ کو پڑھا۔
اس مکالمے میں سوال اور جواب دونوں کو ملا کر دیکھیے تو اس کا مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ پڑھنا نہیں جانتے تب بھی پڑھو، لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس گفتگو کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک بامعنی ڈائیلاگ تھا۔ یہ علم اور تعلیم کی لامحدود اہمیت کا اظہار تھا۔ یہ تعلیمی جدوجہد کا سبق تھا۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ گھر کے ایک بڑے کمرے میں بیٹھ گئے۔ یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues