Al-Risala · August 2006 · page 17

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷

دیر تک دینی مباحث پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں مکی دور ابتدائی پیریڈ کا دور تھا، اور مدنی دور اتما می پیریڈ کا دور۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اسلام کی اُس حالت کا نمائندہ ہے جو مستقل طور پر ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اور مدنی دور اُس حالت کا نمائندہ ہے جو اسلام میں وقتی طور پر پیش آتی ہے۔ اور پھر مکی دور دوبارہ مستقل حالت کی حیثیت سے لوٹ آتا ہے۔

غالباً یہی نکتہ ہے جو ایک مشہور حدیث میں بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک (۹ھ) سے واپس ہوئے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر (ہم چھوٹے جہاد سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں) دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہم وقتی جہاد سے واپس ہو کر مستقل جہاد کی طرف آگئے ہیں۔

مکی دور میں قرآن میں یہ آیت اتری کہ الدین کو قائم کرو۔ (أن أقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه (الشوریٰ: ۱۳) اس آیت میں الدین سے مراد مکمل دین نہیں ہے بلکہ دین کا وہ حصہ ہے جو ہر حال میں قابل عمل ہوتا ہے۔ یہاں الدین میں شرائع مراد نہیں ہیں۔ یہ الدین جس پر اہل ایمان مکی دور میں قائم تھے وہی اصل دین ہے، اور وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ بقیہ چیزیں حالات پر منحصر ہیں۔ مثلاً تنظیم معاشرہ، اقامت حدود، سیاسی امارت کا قیام وغیرہ اُس وقت مطلوبِ شرعی بنتے ہیں جب کہ حالات اس کے موافق ہو چکے ہوں۔

مزید یہ کہ ’’مکمل دین کا نفاذ‘‘ اسلامی مشن کا نشانہ نہیں ہے۔ اسلامی مشن کا نشانہ صرف دو چیزیں ہیں — شخصی اصلاح اور پر امن دعوت۔ ان دو کے سوا جو چیزیں ہیں وہ سب حالات پر مبنی ہیں، وہ اسلامی مشن کا براہ راست نشانہ نہیں۔

پیغمبر اسلام کی زندگی مکہ سے شروع ہوئی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو اسلام مدنی دور میں پہنچ چکا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے مدنی دور کو اپنے لیے ماڈل سمجھ لیا۔ مکی دور کی حیثیت ان کے لیے ماڈل کی نہ رہی۔ یہ شدید غلط نہی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ بعد کی مسلم نسلوں میں حاکمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page