If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸
مزاج آگیا۔ حالاں کہ حاکمانہ دور کی حیثیت ماڈل کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک درمیانی حالت کی ہے۔ مکی دور ہی اسلام کا ابدی ماڈل ہے۔ مدنی دور، مکی دور کے تابع ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ اسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اہل علم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام میں اقتدار کی حالت (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، لیکن اسلام میں بے اقتدار کی حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکی دور امت کے ذہن سے عملاً حذف ہو گیا ہے۔ اب امت کے ذہن میں صرف مدنی دور، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں عباسی دور اور اموی دور اور مغل دور اور عثمانی دور موجود ہے۔ اسی بعد کے سیاسی دور سے لوگ انسپریشن لیتے ہیں۔ مکی دور لوگوں کے ذہن میں زندہ شعور کی حیثیت سے موجود نہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ غلو کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ غلو دراصل دور زوال کا ظاہر ہ ہے۔ غلو کا تعلق اسپرٹ سے نہیں ہے بلکہ ظواہر سے ہے۔ جب اسپرٹ ختم ہو جائے اور دین صرف ظواهر کی سطح پر باقی رہے، اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ظواہر کا بہت زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔ لوگ ظواہر کے معاملے میں انتہا پسند بن جاتے ہیں۔ اسی کا نام غلو ہے۔ غلو، دین داری کی علامت نہیں ہے بلکہ وہ اصل دین سے انحراف کی علامت ہے۔ غلو اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے اندر روح اسلام باقی نہیں رہی ہے اس لیے وہ ظواہر دین کا اہتمام کر کے اپنے آپ کو اعلیٰ دین دار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ سادگی (simplicity) کوئی معمولی چیز نہیں۔ سادگی کا گہرا تعلق اسلامی کردار سے ہے۔ زندگی کے معاملات میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کا پیسہ، اس کا وقت اور اس کی توجہ غیر ضروری چیزوں میں نہ لگے۔ آدمی اپنے سارے وسائل، اپنی ساری توجہ اور اپنے تمام وقت کو صرف اپنے اعلیٰ مقصد کے راستے میں خرچ کر سکے۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ با مقصد انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سادگی کا طریقہ چھوڑ دے۔ با مقصد انسان کے لیے سادگی کے طریقے کو چھوڑ نا مقصدی اعتبار سے اپنے آپ کو ہلاک
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues