Al-Risala · August 2006 · page 19

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

کرنے کے ہم معنی ہے۔ سادگی اور بامقصد زندگی دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو ناشتے کے بعد ہم لوگ جامعہ دارالفرقنان (للبنات) گئے ۔ یہ ادارہ حیدرآباد کے سعید آباد علاقے میں واقع ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ ۱۹۸۹ میں قائم ہوا۔ اس کے قیام کا مقصد اس کے تعارف نامے کے مطابق ، یہ ہے— ’’عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کو عام کرنا، تا کہ خواتین میں علمی اور دینی بیداری کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی تعلیم کے ذریعے دینِ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ جامعہ کا نصاب اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ طالبات (انٹرنس مماثل .S.S.C دسویں جماعت) پری ڈگری کورس (مماثل انٹرمیڈیٹ B.A. (L کی ڈگری سندِ فضیلت کے ساتھ ساتھ عثمانیہ یونیورسٹی سے حاصل کر سکیں‘‘۔

اس ادارے کے بانی سید قطب الدین مرحوم تھے۔ اور اس کے موجودہ پرنسپل مولا نا محمد اسحاق کمال صاحب ہیں ۔ جامعہ دارالفرقنان میں میرے خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا عنوان تھا: اسلام میں عورت کا مقام ۔ میں نے اس موضوع پر ایک تفصیلی تقریر کی ۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں عورت کو اعلیٰ انسانی مرتبہ دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں عزت اور احترام کے اعتبار سے برابر ہیں۔ البتہ دونوں کے سماجی کردار میں فرق ہے:

میں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ایک مغربی اسکالر ایڈورڈ ولیم لین (وفات : ۱۸۷۶) نے لکھا تھا کہ اسلام کا تباہ کن پہلو یہ ہے کہ وہ عورت کو ڈی گریڈ (degrade) کرتا ہے۔ حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں عورت کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ: النساء شقائق الرّجال ۔ یعنی عورت اور مرد دونوں ایک وحدت کے دونصف حصے ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page