If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
لیکن فطرت کی تقسیم کے مطابق ، عورت اور مرد کا رول ایک دوسرے سے کو آپریٹ کرنا ہے نہ کہ ایک دوسرے سے ہمسری کرنا (ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم علی بعض ، النساء ۳۲) قرآن کے مطابق ، مرد کا رول قوامیت کا رول ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کا رول تعاون کا رول ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: زوجة صالحة تعین علی دینہ یعنی زندگی میں مرد کا مددگار بننا۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ والی بال کا کھیل ایک ٹیم کا کھیل ہوتا ہے۔ والی بال میں ایک والرو ہوتا ہے اور دوسرا بوسٹر۔ بوسٹر کا کام گیند والرکودینا ہے اوروالر کا کام گیند کو مارنا۔ اسی طرح زندگی میں عورت کا رول بوسٹر (booster) کا رول ہے ، اور مرد کا رول پرفارمر (performer) کا رول۔ قانونِ فطرت کے مطابق ، یہی صحیح تقسیم ہے۔ اسی تقسیم کو اسلام میں اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سائنس داں مارگریٹ آلوائیڈیسن (وفات: ۱۹۳۱) میٹرک پاس بھی نہ تھا۔ اس کے باوجود اس نے ایک ہزار سے زیادہ چیزیں ایجاد کیں ۔ ٹیوب لائٹ اسی کی ایک ایجاد ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ وہ اس طرح ممکن ہوا کہ ایڈیسن کی ماں (Nancy) اپنے بیٹے کے لیے بوسٹر بن گئی ۔ ماں کا حصہ ایڈیسن کی زندگی میں اتنا زیادہ ہے کہ ایڈیسن نے کہا: The real force behind all of my successes is my mother. ایڈیسن کی ماں جو کہ ایک ٹیچر تھی اس نے اپنی پوری زندگی ایڈیسن کی تعلیم وتربیت کے لیے وقف کردی۔ اس نے ایڈیسن کے اندر علم کا شوق بھی پیدا کیا اور علم کے حصول میں بھی اس کی پوری مدد کی۔ ایڈیسن نے اپنی ماں کے بارے میں کہا کہ:
She instilled in me the love and the purpose of learning. میں نے کہا کہ اسلام کے مطابق ، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے ذہنی رفیق (intellectual partner) ہیں ۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ایک ذہنی رفیق کا ملنا ہے۔ عورت کی صورت میں مرد کو یہی چیز دی گئی ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس عظیم فطری امکان کے واقعہ نہ بننے کی سب سے بڑی ذمے داری مردوں پر عائد ہوتی ہے۔ مردوں کا یہ حال ہے کہ وہ عورت کو صرف گھر کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues