If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱
ایک ساتھی سمجھتے ہیں، وہ اس کو ذہنی رفیق کے روپ میں نہیں دیکھتے۔ اس کا نقصان دونوں کو سنگین صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
خطاب کے بعد سوال اور جواب کا وقفہ تھا۔ اساتذہ اور طالبات کی طرف سے بہت سے سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے النساء شقائق الرجال والی حدیث کا حوالہ عورت اور مرد کے درمیان عمومی برابری کے لیے دیا ہے۔ حالاں کہ یہ روایت کتاب الطہارہ کے تحت آئی ہے۔ میں نے کہا کہ فہم حدیث کا ایک اصول ہے کہ کوئی حدیث قریبی سیاق کے اعتبار سے ایک خاص مفہوم میں ہوسکتی ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کا ایک تو وسیع مفہوم بھی ہوتا ہے۔ یہ حدیث ایک سوال کے جواب میں آئی ہے۔ سوال ہمیشہ کسی مخصوص صورت حال کی نسبت سے ہوتا ہے۔ لیکن جب اس کا جواب دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس میں ایک کلی مفہوم بھی بیان کر دیا جاتا ہے جو عمومی حکم بتانے کے ساتھ زیرِ سوال مسئلے کے دوسرے پہلوؤں کا بھی احاطہ کر رہا ہو۔ تقریر کے دوران میں نے قرآن کے بارے میں ایک حدیث: لاتنقصی عجائبہ (الترمذی) کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر اساتذہ کی طرف سے ایک سوال یہ آیا کہ اس حدیث کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔ پھر آپ کیوں اس حدیث کو بناء استدلال بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ سند کے اعتبار سے بالفرض یہ روایت ضعیف ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ قوی ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کے بہت سے عجائب (معانی) بعد کے زمانے میں ظاہر ہوئے جو کہ نزول قرآن کے وقت لا معلوم تھے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کی لاش خدا نے محفوظ کر دی ہے۔ یہ بات نزول قرآن کے وقت بالکل لامعلوم تھی۔ نزول قرآن کے بارہ سو سال بعد اس کا انکشاف ہوا، وغیرہ۔ اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب عظمتِ قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔
میں نے کہا کہ حدیث کو جانچنے کا اصول صرف وہی نہیں ہے جو عموماً فن حدیث میں مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حدیث کی صحت کو جانچنے کا ایک اور اہم تر اصول بھی ہے۔ وہ یہ کہ حدیث اگر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues