Al-Risala · August 2006 · page 22

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

قرآن کے بیان سے مطابقت کر رہی ہو تو اس کو صحیح مانا جائے گا۔ اس حدیث کا معاملہ یہی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں اس مفہوم کا بیان موجود ہے۔ وہ یہ کہ آئندہ آفاق اور انفس میں خدائی نشانیاں ظاہر ہوں گی (حم السجدہ (۵۳)۔ گویا جو بات قرآن میں ایک قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی وہی حدیث میں دوسرے قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ عورت کے پردے کے بارے میں آپ نے شیخ ناصر الدین البانی کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن جو علماء وجہ اور کفین کو حجاب سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں وہ بھی موجودہ زمانے میں اس کے قائل نہیں ہیں۔ کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ فتنے کا زمانہ ہے، اور جب فتنے کا زمانہ آجائے تو احتیاط کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس رعایت پر عمل نہ کیا جائے۔

میں نے کہا کہ فتنے کا تعلق ، صرف عورت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مرد سے بھی ہے۔ قرآن میں مال کو سب کے لیے فتنہ کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: لكل أمة فتنة وفتنة امتی المال (ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے)۔ ظاہر ہے کہ مال کا تعلق ننانوے فیصد مردوں ہی سے ہوتا ہے۔ کیا ایسی حالت میں یہ کہا جائے گا کہ مرد مال کمانا چھوڑ دیں کیوں کہ اب وہ فتنہ بن گیا ہے۔ کسی چیز کا فتنہ بننا ، ہمیشہ صرف احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے نہ کہ ترک کا ، اور احتیاط اور ترک میں بہت زیادہ فرق ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ عورت مرد کے لیے انٹلکچول پارٹنر ہے۔ آپ کی یہ رائے تعلیم یافتہ مردوں کے لیے تو سمجھ میں آتی ہے لیکن غیر تعلیم یافتہ مرد کس طرح اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنا سکتے ہیں۔

یہ سوال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تعلیم یافتہ مرد اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ مفروضہ بذات خود غلط ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کسی ایک مرد کو بھی نہیں دیکھا جو حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کو انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے ہو، خواہ اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ ۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں سب سے پہلے عورتوں اور مردوں کو باشعور بنانے کی ضرورت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page