Al-Risala · August 2006 · page 23

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

اِس کے بعد لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو اِس کے لیے تیار کریں۔ مزید یہ کہ اِنٹلیکچول پارٹنر شپ کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ اِس کے بغیر یہ امکان واقعہ نہیں بن سکتا۔ وہ قربانی یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سادگی، صبر، ایثار، تواضع، علمی اور دینی مزاج، وغیرہ پیدا کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ عورت کو اپنا اِنٹلیکچول پارٹنر بنانا ابتدائی طور پر ایک امکان ہے۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے باقاعدہ تیاری کی ضرورت ہے۔ ہر تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ آدمی کو تیاری کے اِس کورس سے گزرنا ہوگا۔ اِس کے بعد ہی وہ اِس امکان کو اپنے لیے واقعہ بنا سکتا ہے۔ تیاری کے اِس عمل میں سب سے زیادہ اہمیت مکمل سادگی کی ہے۔ سادگی ایک لائف اسٹائل کا نام ہے۔ اِس لائف اسٹائل کو اپنائے بغیر کوئی گھر اِنٹلیکچول پارٹنر شپ کا مقام نہیں بن سکتا۔

ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ایک سیمنار کرنے والے ہیں۔ انھوں نے مجھے اِس سیمنار میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ میں نے کہا کہ میں سیمنار کو ایک بے فائدہ کام سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میں نے آج تک کبھی کوئی سیمنار نہیں کیا۔ البتہ دوسرے لوگوں کے سیمنار میں حسب موقع میں شرکت کرتا رہا ہوں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ یہ شرکت صرف تجربے اور مشاہدے کے لیے ہوتی ہے۔ جہاں تک سیمنار کے مقصد کا تعلق ہے، اِس اعتبار سے ہر سیمنار بالکل بے فائدہ ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ سیمنار کیا ہے۔ سیمنار اِنٹلیکچول (intellectuals) لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اعلان کے مطابق، اِس کا مقصد کسی پہلو پر ڈسکشن کرنا ہوتا ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ ہر سیمنار، بظاہر ڈائیلاگ کے لیے ہوتا ہے مگر عملاً وہ مونولاگ (monologue) بن جاتا ہے۔

اِس کا سبب اِنٹلیکچول لوگوں کی ایک کمزوری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ہر اِنٹلیکچول اِیگوئسٹ (egoist) ہوتا ہے۔ اِس کو صرف اپنی بات سنانے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر نہ دوسروں کی بات کھلے ذہن کے ساتھ سنتا ہے اور نہ وہ اس کو ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیمنار ایک طرح کا فکری تصادم بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ کسی فکری اتحاد تک نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page