If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
پہنچتا۔ سیمنار کے مفید بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شرکت کرنے والے کے اندر ماڈسٹی (modesty) کی صفت پائی جاتی ہو، ظاہری ماڈسٹی نہیں بلکہ حقیقی ماڈسٹی۔ بدقسمتی سے یہ صفت آج معدوم کے درجے میں ہے۔ اس لیے ہزاروں سیمنار ہونے کے باوجود ان کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ دوسروں کے طریقے اور میرے طریقے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بھیڑ کو خطاب کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ بھیڑ ہوتاہی زیادہ وہ اپنے پروگرام کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ اگر بھیڑ کو خطاب کرنا کوئی کام ہو تو لاؤڈ اسپیکر کا زمانے آنے کے بعد لاکھوں بار لوگوں نے بھیڑ کو خطاب کیا ہے مگر یہ سارے خطابات بالکل بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ اس کے مقابلے میں میرا طریقہ انفرادی ذہن کو خطاب کرنا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ بیوی کے لیے رفیق حیات ایک معروف لفظ ہے جس میں سب کچھ آجاتا ہے۔ پھر آپ ایک نیا لفظ انٹلیکچول پارٹنر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ لفظی طور پر رفیق حیات میں ساری بات آجاتی ہے، لیکن رفیق حیات استعمال کے اعتبار سے ایک رسمی لفظ بن گیا ہے۔ ہر آدمی رفیق حیات کا لفظ بولتا ہے لیکن کسی کو بھی یہ پتہ نہیں کہ رفیق حیات کے لفظ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی بیوی کو انٹلیکچول پارٹنر بنایا جائے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عورت کے موضوع پر لکھی جانے والی کسی بھی کتاب میں انٹلیکچول پارٹنر کا تصور موجود نہیں اور نہ آپ ایسے کسی مسٹر یا مولوی کا نام بتا سکتے ہیں جس نے شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا ہو اور واقعتا اپنی رفیق حیات کو اپنا انٹلیکچول پارٹنر بنایا ہو۔
یہ ایک عام اصول ہے کہ جب کوئی لفظ ناقص استعمال کی بنا پر اپنی معنویت کھو دے تو ایک نیا لفظ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جو سننے والوں کے لیے زیادہ قابل فہم ہو، اور جس کے ذریعے اصل مفہوم فوراً لوگوں کے ذہن میں آجائے۔ اس لیے میں نے انٹلیکچول پارٹنر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو یہ جانتا ہو کہ رفیق حیات کا مطلب اپنی بیوی کو انٹلیکچول پارٹنر بنانا ہے۔ اس لیے دعوتی اور اصلاحی نقطہ نظر سے ضروری ہوا کہ اس مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ایک نیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues