Al-Risala · August 2006 · page 25

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵

لفظ استعمال کیا جائے جس کو سن کر فوراً اصل مفہوم واضح ہو جائے۔ آپ کو اس معاملے میں شک ہو تو آپ یہ دیکھیے کہ کیا وہ لوگ جورفیق حیات کے لفظ سے واقف ہیں کیا وہ اس بات کو جانتے تھے کہ رفیق حیات کا مطلب اپنی شریکِ زندگی کو انٹلکچول پارٹنر بنانا ہے۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو جامعہ دار الفرقان کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے ایک قریبی مسجد میں گئے۔ ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو وہاں خطبے سے پہلے کی تقریر ہورہی تھی۔ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر اس قدر زور زور سے بول رہے تھے جیسے کہ کسی دشمن نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں۔ اکثر علماء اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ پر جوش انداز میں تقریر کی جائے گی اتنی ہی زیادہ اصلاح کا کام مؤثر ہو سکے گا۔ یہ لوگ شاید اقبال کے اِس شاعرانہ تخیل سے متاثر ہو کر ایسا کر رہے ہیں :

نوارا تلخ ترمی زن، چو ذوق نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چوممل راگراں بینی میرے نزدیک اِس قسم کی شعلہ بیانی سرتا سرا یک بے فائدہ کام ہے۔ لوگوں کی اصلاح کے لیے شعلہ بیانی کی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدہ انداز میں ذہنی تعمیر کی ضرورت ہے، اور ذہنی تعمیر کا کام شعلہ بیانی کے ذریعے نہیں ہوتا۔

نماز جمعہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر واپس آئے۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے بعد اگلے پروگرام کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ پروگرام اُس بلڈنگ میں تھا جس کو حبیب بھائی نے دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے۔ یہاں زیادہ تر وہ لوگ اکٹھا ہوئے تھے جو ماہ نامہ الرسالہ کے پڑھنے والے ہیں اور جنھوں نے الرسالہ کی دوسری کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کو الرسالہ کی دعوتی تحریک سے اتفاق ہے۔

یہاں میں نے دعوت کی اہمیت کے موضوع پر ایک مفصل تقریر کی۔ اور بتایا کہ دعوت کا عمل ایک مستقل عمل ہے۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے یہ کام مسلسل طور پر پیغمبروں کے ذریعے ہو تار ہا۔ اب ختم نبوت کے بعد امت محمدی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس کام کو نسل در نسل ساری دنیا میں جاری

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page