Al-Risala · August 2006 · page 26

If you have a good excuse don't use it.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶

رکھے۔ دعوہ ورک کوئی قومی ورک نہیں۔ دعوہ ورک کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمام انسانوں کو خدا کے تخلیقی نقشہ (Creation Plan of God) سے باخبر کیا جائے۔

پھر میں نے کہا کہ اکثر لوگ دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ دعوہ ورک کر رہے ہیں ۔ اس طرح کچھ لوگ اصلاح مدرسہ اور اصلاح مسجد کا کام کرتے ہیں اور سمجھتے کہ وہ دعوہ ورک کر رہے ہیں ۔ یہ سب بے خبری کی باتیں ہیں۔ ایسے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ دعوت الی اللہ کیا ہے اور وہ اسلام میں کیوں مطلوب ہے۔ کچھ لوگ موجودہ مسائل کو عذر بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے ہوتے ہوئے دعوہ ورک کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق ، دعوہ ورک ہی ان مسائل کا حل ہے (المائدہ ۷۲)۔ کسی بھی عذر کی بنا پر دعوت کے کام کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنے کے بعد امت محمدی کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ پھر میں نے بتایا کہ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام رک گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں سے قومی اور سیاسی شکائیتیں پیدا ہوئیں ۔ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگے ۔ حتی کہ ان کے خلاف متشددانہ جہاد چھیڑ دیا۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر وہ اسپرٹ ہی ختم ہوگئی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔ یعنی دوسرے انسانوں کے لیے خیر خواہی۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل دوسری قوموں کے خلاف شکایتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسی شکایت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں اور دوسری قوموں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں دعوت الی اللہ کا سنجیدہ کام کبھی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ دعوت الی اللہ مسلمانوں کی لازمی ذمے داری ہے۔ اور اس ذمے داری کی ادائیگی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ مسلمان، غیر مسلم قوموں کے مقابلے میں صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر غیر مسلموں کی کسی روش سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے بھڑکنا اور ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنا ہرگز جائز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page