If you have a good excuse don't use it.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن سے ایسے انداز میں بات کرو جو اُن کے دل میں اتر جانے والی ہو (النساء : ۶۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا اسلوب اختیار کرو جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ جو اُن پر خدائی پیغام کی صداقت کو اس طرح کھول دے کہ وہ اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت سے پہلے اصلاح ضروری ہے جب تک اپنی اصلاح نہ ہو جائے دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک خود ساختہ شرط ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس قسم کی شرط کہیں مذکور نہیں۔ صحابہ اور تابعین کا گروہ اسلام میں معیاری گروہ مانا جاتا ہے۔ انھیں لوگوں کے دعوتی عمل سے اسلام ہر جگہ پھیلا۔ مگر ان کے حالات پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اُن میں سے کوئی بھی شخص نہیں جو اپنے کو مومن کامل سمجھتا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کامل مومن یا با عمل مومن کی شرط اگر ضرور قرار دی جائے تو کبھی دعوت کا عمل انجام نہیں پائے گا۔ کیوں کہ کوئی مخلص انسان یا اللہ سے ڈرنے والا انسان کبھی اس احساس میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ وہ پورے معنوں میں مومن کامل یا با عمل مسلمان بن گیا ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو ناقص سمجھ کر دعوت کے عمل سے رُکارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی شرط ایک خود ساختہ شرط ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دعوت الی اللہ کا محرک یہ نہیں ہے کہ میں پوری طرح با عمل مسلمان بن گیا ہوں اس لیے اب مجھے دعوت کا عمل کرنا چاہیے ۔ دعوت کا محرک دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ جو لوگ مذکورہ قسم کی شرطیں لگاتے ہیں ان کے دل انسانوں کی خیر خواہی سے بالکل خالی ہیں۔ اگر ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی موجود ہو تو وہ کبھی اس قسم کی بے بنیاد بات نہیں کہیں گے۔
مولا نا محمد ذکوان ندوی نے بتایا کہ انھوں نے ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو حیدر آباد کی ایک قدیم جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی۔ مسجد کے اندر جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے جس پر لکھا ہوا تھا۔ براہ کرم مسجد میں اپنا موبائل فون بند کر دیں۔
انھوں نے بتایا کہ خطبے سے پہلے کی تقریر میں امام صاحب نے کہا کہ مسجد میں بڑے بڑے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues