Al-Risala · August 2006 · page 28

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

بورڈ پر لکھ کر یہ لگایا گیا ہے کہ لوگ مسجد میں اپنا موبائل بند رکھیں پھر بھی لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ دراصل یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان، مسجد میں بھی عبادت اور دعا کے لیے یکسو نہ رہ سکیں۔ اس لیے انھوں نے مسلمانوں کے اندر موبائل پھیلا دیئے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے واعظین کی بے شمار تقریروں کے باوجود کیوں مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی ہر داخلی خرابی میں ایک خارجی دشمن کی سازش کو دریافت کر لیتے ہیں اور اس کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر داخلی احتساب کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ خارجی دشمنوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طور پر منفی انداز فکر کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو عصر کی نماز کے بعد ہم لوگ بھارتیہ ودیا بھون کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں کے وسیع ہال میں خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ اس خطاب کا انتظام ایک ہندو تنظیم پرگنا بھارتی (آندھرا پردیش) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہاں کے خطاب کا عنوان یہ تھا:

Co-existence in Islam

یہ پروگرام پورا کا پورا انگریزی زبان میں تھا۔ اس میں حیدر آباد کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان شریک ہوئے۔ مجھے تقریر کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام پرگنا بھارتی والوں نے اصلاً صرف میری تقریر کے لیے کیا تھا۔ اس کے صدر ڈاکٹر چودھری تھے۔ وہ پرگنا بھارتی کے چیرمین ہیں۔

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ دنیا میں بقائے باہم (co-existence) ایک فطری فارمولا ہے۔ اور ہر فارمولا جو فطری ہو وہ اسلام کا فارمولا بھی ہے۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق، اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس فطری فارمولے کی ایک مثال قرآن میں یہ دی گئی ہے کہ وسیع خلا میں ستارے اور سیارے مسلسل حرکت میں ہیں۔ لیکن ہر ایک اپنے مدار میں حرکت کرتا ہے۔ اس لیے ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ نہیں ہوتا (یس : ۴۰) ستاروں اور سیاروں کے اس نظام کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page